حکمت اسلام
Urdu book, p. 121
By Maulana Wahiduddin Khan
آدمی کے مال میں دوسرے کا بھی حق ہے طبرانی نے جدعہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا۔ وہ بڑے پیٹ والا تھا۔ آپ نے اپنی انگلی اس کے پیٹ پر رکھی اور فرمایا: لوکان هذا فی غیر هذا المکان لكان خيرا یہ کھانا اگر دوسرے کے پیٹ میں ہوتا تو تیرے لئے لك (احمد، طبرانی) زیادہ بہتر تھا۔ باپ کی ذمہ داریاں ابو نعیم نے ابو رافع رض (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام) سے نقل کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کہا: کیف بک یا ابا رافع اذا انقترت (اے ابو رافع ! اس وقت تمھارا کیا حال ہو گا جب تم محتاج ہو جاؤ گے میں نے کہا: کیوں نہ ابھی سے میں اس سے بچنے کی تیاری کروں۔ آپ نے فرمایا ضرور ایسا کرو۔ پھر پوچھا تمھارے پاس کتنا مال ہے۔ میں نے کہا چالیس ہزار۔ اور یہ اللہ عزوجل کے لئے ہے۔ آپ نے فرمایا نہیں۔ ایک حصہ اللہ کے راستہ میں دو اور ایک حصہ رو کے رکھو۔ اور اس سے اپنی اولاد کی اصلاح کر دو۔ میں نے کہا: اے خدا کے رسول کیا ان کا ہمارے اوپر حق ہے جس طرح ہمارا ان کے اوپر حق ہے۔ آپ نے فرمایا ہاں۔ باپ کا حق اپنے بیٹے پر یہ ہے کہ وہ ان کو کتاب اللہ کی تعلیم دے۔ تیر اندازی اور تیراکی سکھائے۔ وان يورثه طيبا (حلیۃ الاولیاء جلدا) اور ان کو خوشبو (دینی اخلاق) کا وارث بنائے۔ بہت سی شکایتوں کا سبب غلط نہی ہے معاویہ رض کی خلافت کے زمانہ میں ایک شخص سہل بن سعد رض کے پاس آیا اور کہا کہ امیر مدینہ (مروان بن حکم اعلی رض کو سب وشتم کرتا ہے۔ سہل نے پوچھا وہ کیا کہتا ہے۔ آنے والے نے کہا وہ ان کو ابو تراب کہتا ہے (يقول له ابوتراب) سہل یہ سن کر ہنس پڑے اور بولے: واللہ ماسماه الا النبی صلی اللہ علیہ وسلم دما كان له اسم احب اليه منه خدا کی قسم اس نام سے تو خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو پکارا ہے۔ اور آپ کے نزدیک ان کا اس سے پیار نام کوئی نہ تھا۔ (بخاری کتاب المناقب، باب مناقب علی) مُردہ کو برا بھلا کہنے سے پر ہیز عکرمہ بن ابو جہل کی بیوی ام حکیم بنت الحارث بن ہشام فتح مکہ کے دن اسلام لائیں۔ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میرے شوہر عکرمہ مہین کی طرف بھاگ گئے ہیں۔ انھیں اندیشہ ہے کہ آپ ان کو قتل کرا دیں گے۔ میری درخواست ہے کہ آپ انھیں امن دے دیں۔ آپ نے فرمایا ان کو ہماری طرف سے امن ہے۔ ام حکیم اپنے رومی غلام کو لے کر عکرمہ کی تلاش میں نکلیں۔ عکرمہ اس وقت تہامہ کے ساحل پر پہنچ چکے تھے۔ اور کشتی پر سوار ہو کر سمندر پار چلے جانا چاہتے تھے۔ عین اس وقت ام حکیم وہاں پہنچ گئیں اور کہا کہ میں اس ہستی کی جانب سے آرہی ہوں جو تمام لوگوں میں سب سے بہتر ہے۔ تم اپنے کو ہلاکت میں نہ ڈالو، انھوں نے بڑی مشکل سے ان کو واپسی کے لئے تیار کر لیا۔ ام حکیم نے کہا: میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader