اتحاد
Urdu book, p. 150
By Maulana Wahiduddin Khan
مجھے چھوڑ دیا اور کہا کہ "پڑھ" میں نے کہا کہ میں پڑھا نہیں ہوں۔ اس نے تیسری بار یہی عمل کیا اور کہا: اقرأ باسم ربك الذى خلق ۔ خلق الانسان پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے انسان کو پیدا کیا من علق ۔ اقرأ و ربك الاکرم جمے ہوئے خون سے۔ پڑھ اور تیرا رب بڑا کریم ہے۔ یہ قرآن کی پہلی آیت تھی جو آپ پر اتری۔ اس کے بعد آپ اپنی بیوی خدیجہ بنت خویلد کے پاس مکہ آئے ۔ اس وقت آپ کا دل کانپ رہا تھا۔ آپ نے کہا زملونی زملونی (مجھے کمبل اڑھاؤ ، مجھے کمبل اڑھاؤ) گھر والوں نے آپ کو اڑھا کر لٹا دیا۔ جب آپ کی دہشت کم ہوئی تو آپ نے اپنی سن رسیدہ بیوی خدیجہ سے پوری کیفیت بیان کی اور کہا کہ یہ واقعہ اتنا سخت تھا کہ مجھے اپنی جان کا خطرہ پیدا ہو گیا۔ خدیجہ نے کہا: کلا واللہ ما یخزیک اللہ ابدا ۔ انک لتصل ہرگز نہیں۔ خدا کی قسم اللہ آپ کو کبھی رسوا نہ کرے گا۔ آپ الرحم وتحمل الکل وتکسب المعد و م وتقری رشتہ داروں کے حقوق ادا کرتے ہیں کمزوروں کا بوجھ اٹھاتے الضیف وتعين علی نوائب الحق ہیں۔ بے سہارا لوگوں کو کمانے کے قابل بناتے ہیں۔ مہمان نوازی کرتے ہیں اور مصیبت کے وقت لوگوں کی مدد کرتے ہیں ایمان آدمی کے اندر فراست پیدا کرتا ہے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مکہ سے مدینہ کے لئے ہجرت کی تو ان کے ساتھ عیاش بن ابی ربیعہ بھی تھے۔ یہ لوگ مدینہ پہنچ کر بنی عمر بن عوف کے یہاں ٹھہرے۔ ابو جہل بن ہشام اور حارث بن ہشام اس کے بعد عیاش کی کھوج میں نکلے۔ وہ دونوں ان کے قریبی رشتہ دار تھے۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی مکہ میں تھے ۔ وہ دونوں مدینہ پہنچے اور عیاش سے ملے اور ان سے باتیں کیں۔ انھوں نے عیاش سے کہا: تمھاری ماں نے قسم کھالی ہے کہ اس کے سر کو کنگھی نہ چھوڑے گی اور نہ وہ دھوپ سے سایہ میں آئے گی جب تک تم کو دیکھ نہ لے۔" یہ باتیں سن کر عیاش کو اپنی ماں پر رحم آ گیا ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: یہ لوگ تم کو تمھارے دین سے پھیر دینا چاہتے ہیں اس لئے تم ان سے بچ کر رہو: فو الله لو قد آذنی امک القمل لا متشتط خدا کی قسم جب تمھاری ماں کو جوں کاٹے گی تو ضرور وہ ولو قد اشتد عليها حر مكة لاستظلت کنگھی کرے گی اور جب اس کو مکہ کی گرمی ستائے گی تو (البدایہ والنہایہ جلد ۳) ضرور وہ سایہ میں جائے گی۔ عیاش نے کہا میں چاہتا ہوں کہ ماں کو اس کی قسم سے بری کر دوں اور وہاں میرا مال ہے اس کو بھی لے لوں۔ پھر واپس آجاؤں گا۔ چنانچہ وہ مکہ کے لئے روانہ ہو گئے۔ وہاں ان کے رشتہ داروں نے ان کو رسی میں باندھ دیا اور طرح طرح سے تکلیف دینا شروع کیا۔ یہاں تک کہ وہ اسلام کو چھوڑ کر اپنے آبائی دین میں واپس چلے گئے۔ خدا کی رحمت وہی پاتا ہے جو خود بھی رحمت کرے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو انسانوں پر رحم نہ کرے، اللہ بھی اس پر رحم نہیں کرتا (من لا يرحم الناس لا يرحمه الله)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader