دعوت
Urdu book, p. 160
By Maulana Wahiduddin Khan
جو کچھ کیا ہے وہی تمھارے ساتھ بھی نہ کرے تم اس سے بات نہ کرنا نہ اس کا کلام سننا۔ طفیل بن عمرو روسی رضہ کہتے ہیں کہ میں بیت اللہ میں گیا تو میں نے اپنے کان میں روئی ڈال لی کہ اس آدمی کی بات میرے کان میں نہ پڑے۔ پھر مجھے خیال آیا کہ آخر میں بھی تو سمجھ رکھتا ہوں۔ مجھ سے کسی کلام کا حسن و قبح نہیں سکتا کیوں نہ میں اس کی بات سنوں اگر معقول ہوگی تو مان لوں گا۔ اور اگر نہ معقول ہوئی تو چھوڑ دوں گا۔ چنانچہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا۔ انہوں نے مجھ کو قرآن سنایا : فواللہ ما سمعت قولا احسن ولا امرا اعدل منہ خدا کی قسم وہ کلام ایسا تھا کہ میں نے اتنا اچھا اور اتنا منصفانہ کلام کبھی نہیں سنا تھا۔ میں نے اسلام قبول کر لیا اور واپس آکر اپنی قوم میں تبلیغ کرنے لگا۔ مگر اس وقت میری تبلیغ سے صرف ایک شخص (ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ) اسلام لائے۔ میں دوبارہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور قوم کی سرکشی کا ذکر کرکے درخواست کی کہ آپ ان کے حق میں بددعا فرمائیں۔ آپ نے فرمایا اللھم اھد دوساً (خدايا قبیلہ دوس کو ہدایت دے) میں نے کہا اے خدا کے رسول ! میرا یہ منشا نہ تھا۔ آپ نے فرمایا : اپنی قوم کی طرف واپس جاؤ ان کو سلام کی دعوت دو اور نرمی کا معاملہ کرو: ان فیھم مثلاً کثیرا (ابن عبدالبر فی الاستیعاب) ان میں تمھارے جیسے بہت ہوں گے۔ اچھی بات سب سے بڑی دین ہے قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : ما افاد المسلم اخاہ فائدۃ احسن من حدیث حسن بلغہ فبلغہ کوئی مسلمان اپنے بھائی کو اس سے اچھا فائدہ نہیں پہنچا سکتا کہ اس کو ایک اچھی بات ملی اور وہ اس نے اپنے بھائی کو پہنچادی (جامع بیان العلم و فضلہ - ۴۳) دوسروں کا احتساب کرنے کے بجائے اپنا احتساب حمزہ بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا : اے اللہ کے رسول ، میرے لئے کوئی ایسی چیز ٹھہرادیجیے جس کے ساتھ میں جیوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے حمزہ ، کسی جان کو زندگی دنیا تھیں زیادہ پسند ہے یا کسی جان کو مار ڈالنا۔ انھوں نے کہا کہ کسی کی جان کو زندگی دینا مجھے زیادہ پسند ہے۔ آپ نے فرمایا : تمھارے اوپر صرف تمھاری اپنی ذمہ داری ہے۔ (قال الامام احمد جاء حمزہ بن عبد المطلب الى رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقال یار سول اللہ اجعلنی علی شیئی اعیش به فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم يا حمزہ نفس تحبیھا احب اليك ام نفس تميتها قال بل نفس احييها قال عليك بنفسك، تفسير ابن كثير جلد اول صفحه (۵۱) کشادہ چہرہ کے ساتھ طو اور نرم بات بولو ابن عمر رض نے کہا : نیکی آسان ہے۔ کشادہ رو اور نرم بات (البریشي ھین: وجہ طلق و کلام لين)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader