ایمانی صفات
Urdu book, p. 25
By Maulana Wahiduddin Khan
اپنے خلاف تنقید کو پسند کرنا ابن المبارک نے موسیٰ بن ابو عیسیٰ سے روایت کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بنی حارثہ کے پانی (مشتربہ) پر آئے۔ وہاں انھوں نے محمد بن مسلمہ کو پایا۔ آپ نے پوچھا: اے محمد! تم میری بابت کیسا خیال کرتے ہو۔ انھوں نے کہا: "آپ کو خدا کی قسم میں ویسا ہی خیال کرتا ہوں جیسا کہ مجھے پسند ہے اور جیسا کہ وہ آدمی پسند کرے گا جو آپ کے لئے بھلائی کو پسند کرتا ہو۔ میں دیکھتا ہوں آپ مال کے جمع کرنے میں قوی ہیں۔ خود اس سے پرہیز کرتے ہیں۔ اس کی تقسیم میں انصاف کرتے ہیں۔" اس کے بعد محمد بن مسلمہ نے کہا: "اور اگر آپ کجی اختیار کریں گے تو ہم آپ کو اسی طرح سیدھا کر دیں گے جس طرح تیر سوراخ میں ڈال کر سیدھا کیا جاتا ہے۔" خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر فرمایا: الحمد للہ الذی جعلنی فی قوم اذا ملت عدلوونی اللہ کا شکر ہے جس نے مجھ کو ایسی قوم میں بنایا کہ اگر میں (کنز العمال) کج روی کروں تو وہ مجھ کو سیدھا کر دیں نفرت اور محبت سے اوپر اٹھ کر معاملہ کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ سے ہجرت کی تو اس وقت کعبہ کی کلید (کنچی) عثمان بن طلحہ کے پاس تھی جو قدیم زمانہ سے ان کے خاندان میں چلی آرہی تھی۔ ہجرت سے پہلے آپ نے ایک بار کعبہ کی کلید عثمان بن طلحہ سے مانگی تو انھوں نے دینے سے انکار کیا اور آپ کو سخت سست کہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تمام ناگوار باتوں کو برداشت کیا اور صرف یہ فرمایا: اے عثمان! شاید تم دیکھو گے کہ یہ کلید ایک روز میرے ہاتھ میں ہوگی اور میرے اختیار میں ہوگا کہ میں جس کو چاہوں اسے دوں۔" عثمان بن طلحہ نے کہا: "وہ دن قریش کی ذلت و ہلاکت کا دن ہوگا جب کعبہ کی کلید تمھارے جیسے آدمی کے ہاتھ میں آجائے۔" فتح مکہ کے بعد جب آپ کو غلبہ حاصل ہوگیا، آپ نے کعبہ کی کلید منگوائی کلید آپ کے ہاتھ میں تھی کہ آپ کے چچازاد بھائی اور داماد علی بن ابی طالب کھڑے ہوئے اور کہا کہ یہ کلید آپ مجھ کو دے دیں۔ آپ نے علی بن ابی طالب کو کوئی جواب نہیں دیا۔ آپ نے کہا: عثمان بن طلحہ کہاں ہیں۔ وہ آئے تو آپ نے فرمایا: هاك مفتاحك يا عثمان - اليوم يوم بر و وفاء اے عثمان! یہ اپنی کلید لو۔ آج کا دن نیکی کا اور وعدہ (زاد المعاد) پورا کرنے کا دن ہے۔ جہالت کے مقابلہ میں صبر اور برد باری زید بن سعنہ مدینہ کے ایک یہودی عالم تھے جو بعد کو مسلمان ہوگئے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو میں نے ان کے چہرہ پر نبوت کی تمام علامتیں پالیں۔ تاہم دو علامت باقی رہ گئی تھی۔ یہ کہ ان پر برد باری غالب رہے گی ۔ کسی کا جہالت میں زیادتی کرنا آپ کی بردباری کو اور زیادہ بڑھائے گا۔ زید بن سعنہ کہتے ہیں کہ ایک روز میں نے دیکھا کہ آپ آرہے ہیں اور آپ کے ساتھ علی بن ابی طالب بھی ہیں۔ اتنے میں ایک آدمی اونٹ پر سوار ہو کر آیا۔ وہ بظاہر بددی معلوم ہوتا تھا، اس نے کہا اے خدا کے رسول ، میری جماعت فلاں قریہ میں اسلام لابیچی ہے۔ میں نے ان سے کہا تھا کہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader