Urdu book · اسلامی زندگی

ایمانی صفات

Urdu book, p. 26

By Maulana Wahiduddin Khan

اگر تم اسلام لاؤ گے تو تم پر رزق کی وسعت ہو جائے گی۔ اب وہاں قحط پڑ گیا ہے۔ مجھے ڈر ہے کہ وہ لالچ میں اسلام کو چھوڑ نہ دیں جس طرح لالچ میں انھوں نے اس کو اختیار کیا تھا۔ اگر آپ مناسب سمجھیں تو ان کی طرف کچھ بھیج دیجئے تاکہ ان کی اعانت ہو۔ آپ نے علی بن ابی طالبؐ کی طرف دیکھا۔ انھوں نے کہا: اے خدا کے رسول اس مال میں سے تو کچھ باقی نہیں رہا۔ زید بن سعنہ کہتے ہیں کہ میں نے قریب جاکر کہا "اے محمد! اگر آپ چاہیں تو کھجوروں کے معاوضہ میں مجھ سے رقم لے لیں"۔ آپ نے اتفاق فرمایا اور میں نے ۸۰ مثقال سونا آپ کو ادا کیا جو آپ نے سارا کا سارا اس آدمی کے حوالہ کر دیا۔ آپ نے فرمایا: ان کی مدد کرو اور انصاف کے مطابق ان کے درمیان تقسیم کر دو۔ زید بن سعنہ کہتے ہیں کہ میعاد سے دو تین دن پہلے میں نے پھر آپ کو ایک دیوار کے قریب پالیا۔ آپ کے ساتھ آپ کے بہت سے اصحاب بھی تھے۔ میں آپ کے پاس پہنچا۔ میں نے آپ کا کپڑا پکڑا یا اور سختی کے ساتھ بولا: اے محمد! میرا حق کیوں نہیں ادا کرتے۔ خدا کی قسم جہاں تک میں جانتا ہوں سارے بنو عبدالمطلب ٹال مٹول کرنے والے ہیں"۔ عمر رضی اللہ عنہ اس وقت آپ کے ساتھ تھے۔ یہ سن کر سخت غصہ میں آگئے انھوں نے کہا: اے خدا کے دشمن! تم رسول اللہ ﷺ کے لئے وہ کلمات کہہ رہے ہو جو میں سن رہا ہوں۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ اگر آپ کا لحاظ نہ ہوتا تو میں اپنی تلوار سے تیرا سر توڑ دیتا۔" تاہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بالکل سکون کے ساتھ مجھے دیکھتے رہے۔ پھر آپ نے عمر رضی اللہ عنہ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: یا عمر، انا وهو كنا احوج الى غير هذا، ان اے عمر! میں اور زید دونوں کسی اور رویہ کے زیادہ مستحق تأمرني بحسن الاداء وتامره بحسن التقاضى۔ تھے۔ تم مجھ سے بہتر ادائیگی کے لئے کہتے اور زید سے بہتر اذهب به یا عمر، فاعطه حقه وزده عشرين تقاضنے کے لئے۔ اے عمر، ان کو لے جاؤ۔ ان کا حق ادا صاعا من تمر مكان ما رعته کر دو اور ۲۰ صاع کھجور زیادہ دینا۔ کیوں کہ تم نے ان کو ڈرایا اور دھمکایا ہے۔ (طبرانی، ابن ماجہ) غصہ پی جانا ایمان کو بڑھاتا ہے عبداللہ ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ما من جرعة احب الى الله من جرعة غيظ اللہ کے نزدیک سب سے بہتر گھونٹ یہ ہے کہ بندہ اپنے يكظمها عبد۔ ما كظم عبد لله الاملا الله جوفه غصہ کو پی جائے۔ جب بھی کوئی بندہ اللہ کے لئے غصہ کو پی جاتا ہے تو اللہ اس کے باطن کو ایمان سے بھر دیتا ہے ایمانا (احمد) خوشامد اور تعریف سے کوئی اثر نہ لینا ابو نعیم نے جبیر بن نفیر کے واسطہ سے نقل کیا ہے۔ کچھ لوگوں نے عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے کہا: خدا کی قسم ہم نے کسی کو نہیں دیکھا جو آپ سے زیادہ انصاف کرنے والا ہو، حق بات کہنے والا ہو اور منافقین کے اوپر سخت ہو۔ اے امیر المومنین! آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے بہتر انسان ہیں"۔ عوف بن مالک رضی اللہ عنہ بھی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page