ایمانی صفات
Urdu book, p. 27
By Maulana Wahiduddin Khan
مجلس میں موجود تھے ۔ انھوں نے سن کر کہا : خدا کی قسم تم لوگوں نے جھوٹ کہا ۔ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ان سے زیادہ بہتر کو دیکھا ہے “ انھوں نے پوچھا : اے عوف وہ کون ہے ۔ عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا : " ابو بکر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا " عوف نے سچ کہا اور تم لوگ جھوٹ بولے ۔ خدا کی قسم ۔ ابو بکر مشک سے زیادہ خوشبودار تھے اور میں اپنے گھر کے اونٹوں سے بھی زیادہ بھٹکا ہوا ہوں ( واللہ لقد كان ابوبكر اطيب من ريح المسك و انا اضل من بعير اهلی ، ابن کثیر ) منہ پر تعریف کرنا ہلاکت ہے ابن ابی الدنیا نے حضرت حسن رض سے نقل کیا ہے ۔ ایک شخص عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور آپ کی تعریف کرنے لگا آپ نے فرمایا : تهلكنى و تهلك نفسك تو مجھ کو ہلاک کرتا ہے اور خود بھی ہلاک ہوتا ہے (کنز العمال جلد ۲) تعریف سے غلط فہمی میں نہ پڑنا صنبہ بن محصن عنوی تابعی کہتے ہیں ۔ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا : انت خير من ابی بکر (آپ ابو بکر رض سے بہتر ہیں ) یہ سن کر وہ روئے ۔ انھوں نے کہا : خدا کی قسم ابو بکر کی ایک رات اور دن کا ایک دن عمر کی تمام زندگی سے بہتر ہے کیا میں تم کو بتاؤں کہ وہ رات اور دن کون سے ہیں ۔ میں نے کہا : ہاں اے امیر المومنین ۔ انھوں نے کہا ۔ ان کی رات تو وہ ہے جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ والوں سے بھاگ کر رات کو نکلے اور ابو بکر ان کے ساتھ تھے ۔ ان کا دن وہ ہے جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی اور عرب مرتد ہو گئے ۔ انھوں نے کہا ، ہم نماز پڑھیں گے مگر زکوٰۃ نہ دیں گے ۔ میں ابو بکر رض کے پاس آیا اور کہا ، اے خلیفہ رسول ! ان لوگوں سے نرمی کا برتاؤ کیجئے ۔ انھوں نے جواب دیا : تم زمانہ جاہلیت میں بہادر تھے ، اب تم زمانہ اسلام میں بزدل ہو گئے ۔ خدا کی قسم میں اس وقت تک ان سے جہاد کروں گا جب تک میرے ہاتھ میں تلوار پکڑنے کی طاقت ہے اگر انھوں نے ایک رسی دینے سے بھی انکار کیا ؟ ( کنز العمال جلد ۳ ) صاحب حق کی سختی کو برداشت کرنا برکت کا باعث ہے ابن ماجہ نے ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک اعرابی آیا ۔ اس نے آپ سے اپنے قرض کا مطالبہ کیا جو آپ کے ذمہ تھا ۔ اس نے تقاضہ کرتے ہوئے کہا : اگر آپ نے ادا نہ کیا تو میں آپ کے ساتھ سختی کروں گا ۔ آپ کے اصحاب نے اس اعرابی کو ڈانٹا اور کہا : تجھ پر افسوس ہے ۔ کیا تو جانتا نہیں کہ تو کس سے بات کر رہا ہے ۔ اس نے کہا : انی اطلب حقی میں تو اپنا حق مانگ رہا ہوں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : هلا مع صاحب الحق كنتم تم لوگ صاحب حق کے ساتھ کیوں نہ ہوئے ۔ پھر آپ نے خولہ بنت قیس کے پاس آدمی بھیج کر کہلايا کہ اگر تمھارے پاس کھجوریں ہوں تو ہم کو ادھار دے دو ۔ ہمارے پاس کھجوریں آئیں گی تو ہم ادا کر دیں گے ۔ چنانچہ ان سے کھجوریں لے کر اعرابی کو دیں اور اس کو کھانا بھی کھلایا ۔ اعرابی نے کہا : آپ نے وفا کی ، اللہ بھی آپ کے ساتھ وفا کرے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ لوگ سب سے بہتر ہیں جو حق کو خندہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader