Urdu book · اسلامی زندگی

ایمانی صفات

Urdu book, p. 28

By Maulana Wahiduddin Khan

پیشانی سے ادا کرتے ہیں۔ پھر فرمایا: لا قدس اللہ امة لا يأخذ ضعيفها حقه من اللہ اس امت کو بابرکت نہیں کرتا جس میں اس کا کمزور شديدها ولا يمتعته (الترغيب والترهيب) اس کے قوی سے اپنا حق بلا زحمت نہ لے سکے۔ تعریف سے خود پسندی کے بجائے تواضع پیدا ہوتا ابونعیم نے نافع رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ ایک شخص عبداللہ بن عمر رض کے سامنے ان کی تعریف کرنے لگا اور کہا: یا خیر الناس، یا ابن خیر الناس (اے لوگوں میں بہتر، اے لوگوں میں بہتر کے بیٹے) ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ما انا بخير الناس ولا ابن خير الناس۔ ولكنی عبد میں لوگوں میں بہتر نہیں ہوں نہ لوگوں میں بہتر کا بیٹا ہوں۔ من عباد اللہ ارجو اللہ تعالى واخافه۔ واللہ ان بلکہ اللہ کے بندوں میں سے ایک بندہ ہوں واللہ سے امید تزالوا بالرجل حتى تهلكوه (حليتہ الاولیاء جلدا) لگائے ہوئے ہوں اور اس سے ڈرتا ہوں۔ خدا کی قسم تم آدمی کی تعریف کر کر کے اس کو ہلاک کر دو گے۔ اس معاشرہ میں کوئی بھلائی نہیں جہاں نصیحت کو برا مانا جائے ابن عساکر نے عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے۔ انھوں نے کہا: تمھار آج کا معروف گزرے ہوئے زمانہ کا منکر ہے۔ اور تمھارا آج کا منکر آنے والے زمانہ کا معروف ہوگا۔ بے شک تم لوگ اس وقت تک حق پر رہو گے جب تک تم منکر کو پہچانتے رہوگے اور معروف کا انکار نہ کروگے۔ اور جب تک تمھارا یہ حال رہے گا کہ تمھاراعالم کھڑا ہو کر تم کو نصیحت کرے گا اور اس کو ہلکا نہ سمجھا جائے گا۔ روما قام عالمکم يتكلم بينكم غير مستخف، كنز اعمال جلد ۲ صفحه ۱۳۰) حکمران سے ٹکرانے کے بجائے اپنے دائرہ میں کام کرنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ابوذر! جب ایسا ہوگا کہ تمھا۔ امیر عام لوگوں سے زیادہ حصہ لیں گے، اس وقت تم کیا کرو گے ۔ حضرت ابوذر رض نے جواب دیا : اے خدا کے رسول میں تلوار سے کام لوں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " تم تلوار سے کام لینے کے بجائے صبر سے کام لینا ۔ یہاں تک کہ تم (آخرت میں) میرے پاس آجاؤ۔" حضرت ابوذر رضہ اگر چہ حق گوئی سے کبھی نہ رکے مگر انھوں نے حاکم وقت کے خلاف کبھی تلوار نہیں اٹھائی۔ یہاں تک کہ وہ اس دنیا سے چلے گئے۔ نصیحت کی بات کہنے میں کسی کا خوف نہ کرو تم میں سے کوئی اپنے آپ کو اس امر میں حقیر نہ سمجھے کہ نہ کسی بات کو دیکھے جس کے متعلق اس کا فرض ہو کہ وہ امر حق کو ظاہر کرے، مگر اپنی کم زوری کے خیال سے وہ چپ رہے۔ قیامت میں جب وہ خدا کے سامنے حاضر ہو گا اور وہ اس موقع کو بھول چکا ہوگا، خدا اس سے پوچھے گا : تو نے سچائی کی بات کیوں نہ کہی۔ وہ کہے گا کہ پروردگار لوگوں کے ڈر سے۔ خدا فرمائے گا: کیا خدا تیرے سامنے نہ تھا جس سے تو ڈرتا۔ (ابن ماجہ)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page