ایمانی صفات
Urdu book, p. 29
By Maulana Wahiduddin Khan
اپنے کو تول لو اس سے پہلے کہ تمہیں تولا جائے حضرت ثابت بن حجاج کہتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق نے کہا: اپنے آپ کو تول لو قبل اس کے کہ تمہیں تولا جائے۔ اپنا حساب کر لو قبل اس کے کہ تمھارا حساب کیا جائے کیونکہ کل کے حساب کے مقابلہ میں آج اپنا حساب کر لینا زیادہ آسان ہے اور بڑی پیشی کے لئے اپنے کو تیار کر لو (زندا انفسكم قبل ان توذنو ا و حاسبوها قبل ان تحاسبو افانہ اہون علیکم فی الحساب غداً ان تحاسبوا انفسكم وتزينوا للعرض الاکبر، حلیۃ الاولیاء لابی نعیم جلد1) ایک نے مار کھائی دوسرا بچ گیا سالم بن ابی جعد کہتے ہیں کہ حضرت ابو الدردار کے سامنے سے دو بیل گزرے جو ایک گاڑی میں جتے ہوئے تھے۔ ایک ان میں سے کام پر لگا رہا اور دوسرا رک گیا۔ یہ دیکھ کر حضرت ابو الدردار نے کہا: اس میں بھی عبرت ہے۔ یعنی رکنے والے نے ڈنڈا کھایا اور دوسرا بچ گیا (مدّ ثوران علی ابی الدردار، دھا یعملان فقام احدهما وقف الاخر فقال ابو الدردار : ان فی هذا المعتبرا، صفوة الصفوة جلد 1) سوچنا اور عبرت پکڑنا سب سے بڑا عمل ہے حضرت عون بن عبد اللہ بن عقبہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ام الدردار سے پوچھا کہ حضرت ابو الدردار کا اکثر عمل کیا ہوتا تھا۔ انھوں نے جواب دیا : سوچنا اور عبرت پکڑنا (قیل لام الدردار ما کان اکثر عمل ابی الدردار رضی الله عنه قالت التفكر والاعتبار، حلیۃ الاولیاء لابی نعیم جلد1) صحابہ کرام کی عبادت خدا اور آخرت میں غور کرنا تھا حضرت محمد بن واسع کہتے ہیں کہ حضرت ابوذر کی وفات کے بعد ایک شخص بصرہ سے سوار ہو کر مدینہ آیا اور ان کی اہلیہ ام ذر سے ملا تا کہ حضرت ابوذر کی عبادت کے بارے میں معلوم کرے۔ ام ذر نے کہا: وہ سارے دن تنہا غور و فکر کرتے رہتے تھے (ان رجلاً من البصرة رکب الی ام ذر رضی الله عنها بعد وفاة ابی ذر رضی الله عنه يسألها عن عبادة ابی ذر ذاتاها فقال : جئتك لتخبريني من عبادة ابی ذر رضی الله عنه، قالت : كان النهارا اجمع خاليا يتفکر، حلیۃ الاولیاء لابی نعیم جلد1) ہر چیز میں عبرت اور نصیحت ہے حضرت دارانی نے کہا کہ میں اپنے گھر سے نکلتا ہوں تو جس چیز پر بھی میری نگاہ پڑتی ہے مجھے اس میں خدا کی کوئی نعمت نظر آتی ہے اور میرے لئے کوئی عبرت ہوتی ہے (قال الدارانی : انی اخرج من منزلی نما یقع بصری على شيئ الا رأيت الله علی فيه نعمه ولى فيه عبرة ، تفسیر ابن کثیر)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader