عبادت
Urdu book, p. 33
By Maulana Wahiduddin Khan
ابو سعد بن منیہ نے ایک سو غلام آزاد کئے ہیں۔ انھوں نے کہا: بے شک یہ ایک بڑی بات ہے کہ آدمی اپنے مال سے سو غلاموں کو آزاد کرے۔ اور اگر تو چاہے تو میں تجھ کو ایسی چیز بتاؤں جو اس سے بھی زیادہ افضل ہے۔ پھر انھوں نے کہا: وہ ایمان جو رات دن لیٹا ہوا ہو اور تمھاری زبان کا ہمیشہ اللہ کی یاد سے تر رہنا (ایمان ملزوم باللیل والنہار ولا يزال لسانك رطبا من ذكر الله عن دجل، ترغیب وترہیب جلد ۳ صفحه ۵۵) ذکر ہر وقت کی نماز ہے عن ابن مسعود رضی اللہ عنہ قال لایزال الفقیه عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا، عالم آدمی ہر وقت يصلی - قالوا وکیف یصلی - قال : ذکر الله تعالی علی نماز میں رہتا ہے۔ لوگوں نے پوچھا وہ کیسے ہر وقت نماز قلبہ ولسانہ جامع بیان العلم و فضلہ ، جزء اول ، ۵۳ میں رہتا ہے۔ انھوں نے جواب دیا : اللہ کی یاد اس کے دل پر اور اس کی زبان پر نماز ادا کرنے والا اللہ کی ذمہ داری میں آجاتا ہے سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، میں ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا کہ مجھ کو نصیحت کیجئے۔ آپ نے فرمایا: اے سلمان ! اللہ سے ڈرو۔ جان لو کہ جلد ہی فتوحات ہوں گی۔ اس میں سے تمھاراحصہ وہی ہے جو تم اپنے پیٹ میں رکھ لو یا اپنے جسم پر ڈال لو۔ اور جان لو کہ جس نے پانچوں نمازیں ادا کیں وہ اللہ کی ذمہ داری میں صبح کرتا ہے اور اللہ کی ذمہ داری میں شام کرتا ہے۔ اور تم کسی اللہ کے بندے کو قتل نہ کرنا، ڈر نہ اللہ اپنی ذمہ داری کو توڑ دے گا اور اللہ تم کو منہ کے بل اوندھا کر کے جہنم میں ڈال دے گا۔ (طبقات ابن سعد جلد ۳ صفحه ۱۴) مسلمان کی حاجت پوری کرنا بہت بڑی عبادت ہے طبرانی اور بہیقی نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا ایک واقعہ نقل کیا ہے۔ وہ مدینہ کی مسجد نبوی میں معتکف تھے۔ ان کے پاس ایک آدمی آیا اور سلام کر کے بیٹھ گیا۔ عبداللہ بن عباس رض نے کہا : اے فلاں ! تم مجھ کو افسردہ اور غمگین دکھائی دیتے ہو۔ اس نے کہا، ہاں اے رسول اللہ کے چچازاد بھائی میرے اوپر فلاں شخص کا حق ہے اور اس صاحب قبر کی عزت کی قسم، میں اس کی ادائیگی پر قادر نہیں۔ عبداللہ بن عباس رض نے کہا : کیا میں تمھارے بارے میں اس سے بات کردوں ۔ آدمی نے کہا ہاں اگر آپ پسند کریں۔ اس کے بعد عبداللہ بن عباس رض نے اپنے جوتے پہنے اور مسجد سے نکل کر روانہ ہوئے ۔ آدمی نے کہا : شاید آپ بھول گئے کہ آپ حالت اعتکاف میں ہیں۔ عبداللہ بن عباس رض نے کہا نہیں ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے (اور یہ کہتے ہوئے عبداللہ بن عباس رض کی آنکھوں میں آنسو آگئے) کہ: جو شخص اپنے بھائی کی حاجت کے لئے چلا اور اس میں کوشش کی تو یہ اس کے لئے دس سال کے اعتکاف سے بہتر ہے ۔ من مشی في حاجة اخيه وبلغ فيها كان خيرا له من اعتکاف عشر سنين (الترغيب والترہیب جلد ۲) مفلس وہ ہے جو آخرت میں مفلس ٹھہرے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک روز ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ نے کہا : کیا تم

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader