عبادت
Urdu book, p. 34
By Maulana Wahiduddin Khan
جانتے ہو کہ مفلس کون ہے ۔ لوگوں نے کہا : ہم میں مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ درہم نہ کوئی پونجی ۔ آپ نے فرمایا : میری امت میں مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز ، روزہ ، زکوٰۃ کے ساتھ آئے۔ مگر وہ اس حال میں آئے کہ اس نے کسی کو گالی دی ہے ، کسی پر تہمت لگائی ہے ، کسی کا مال کھایا ہے ، کسی کا خون بہایا ہے ، کسی کو مارا ہے۔ تو اس کی کچھ نیکیاں اس کو ، کچھ نیکیاں اُس کو دے دی جائیں گی۔ اور جب اس کی تمام نیکیاں ختم ہو جائیں گی اور ادائگی باقی رہے گی تو دوسروں کی برائیاں لے کر اس پر ڈال دی جائیں گی اور پھر اس کو آگ میں جھونک دیا جائے گا ( مسلم ) مشکل وقتوں میں نماز کی طرف دوڑنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ۔ غزوہ خندق میں ہماری تعداد تقریباً تین سو تھی ۔ یہ ایک نہایت سخت رات تھی ۔ اوپر کی جانب ابوسفیان اور ان کی فوج تھی ۔ نیچے کی جانب بنو قریظہ تھے جن کی طرف سے ہم اپنے بال بچوں کو بالکل غیر محفوظ سمجھتے تھے ۔ بے حد شدید سردی تھی۔ اس کے بعد تیز ہوا چلنے لگی جس میں کڑک چمک تھی ۔ پتھر اڑ اڑ کر گر رہے تھے ۔ اندھیرے کا یہ عالم تھا کہ کوئی چیز سجھائی نہ دیتی تھی ۔ ایسے حالات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو حکم دیا کہ خندق کے پار مشرکین کے پڑاؤ کی طرف جاؤ اور ان کی خبر لاؤ (کہ وہ واپس جانے کی باتیں کر رہے ہیں یا ابھی ججمے ہوئے ہیں ) میں لوگوں میں سب سے زیادہ ڈرنے والا تھا اور سردی بھی مجھ کو بہت لگتی تھی ( انا من اشد الناس فزعاً و اشد هم قرا ) مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم پکا اٹھا ۔ آپ نے میرے لئے حفاظت کی دعا فرمائی۔ میں اپنے مشن پر روانہ ہوا۔ اور ابوسفیان کی فوج میں گھوم پھر کر خبر لایا۔ وہ لوگ الرحیل الرحیل (واپس چلو واپس چلو) کہہ رہے تھے۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپ چادر اوڑھے ہوئے نماز میں مشغول تھے : دكان رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم اذا حزبه رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ کوئی سخت امرصلی ( البدایہ والنہایہ جلد ۴) معاملہ پیش آتا تو آپ نماز پڑھتے۔ قرآن سے اپنے دلوں کو حرکت دو شعبہ کہتے ہیں کہ مجھ سے ابو حمزہ نے بیان کیا۔ انھوں نے عبداللہ بن عباس سے کہا کہ میں تیز پڑھنے والا آدمی ہوں ۔ بعض اوقات ایک ہی رات میں ایک بار یا دو بار پورا قرآن پڑھ لیتا ہوں۔ حضرت ابن عباس نے جواب دیا : ایک سورہ پڑھنا مجھے اس سے زیادہ پسند ہے جو تم کرتے ہو۔ اگر تم کو پڑھنا ہے تو اس طرح پڑھو کہ تمھارے کان اس کو سنیں اور تمھارا دل اس کو لے سکے۔ پھر انھوں نے کہا : قرآن اس طرح پڑھو کہ اس کے عجائب پر ٹھہرو اور اس سے دلوں کو حرکت دو ۔ تمھاری کوشش یہ نہ ہو کہ بس کسی طرح آخر سورہ تک پہنچ جاؤ ( فاقرأ قراءۃ تسمع اذنيك وتعييه قلبك، وتقفوا عند عجائبه وتحركوا به القلوب ولا ليكن هم احدكم آخر السورة ) نماز آدمی کو اللہ کی حفاظت میں رکھتی ہے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے ایک طویل روایت منقول ہے۔ اس کا ایک جز یہ ہے : لا تتركـن صلاۃً مکتوبۃً فإِنَّ مَنْ ترك صلاۃ مکتوبۃ متعمداً لقد برئت منه ذمّةُ الله ( ترغيب و ترہیب بحوالہ طبرانی) تم ہرگز

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader