عبادت
Urdu book, p. 35
By Maulana Wahiduddin Khan
کوئی فرع نہ نماز نہ چھوڑنا ۔ کیوں کہ جو شخص فرض نماز جان بوجھ کر چھوڑ دے تو وہ اللہ کی حفاظت سے نکل جاتا ہے۔ نماز جمعہ کا مقصد اللہ کی قربت حاصل کرنا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت سے پہلے مصعب بن عمیر رضہ کو اجتماعی عبادت قائم کرنے کی بابت تحریری ہدایت روانہ فرمائی تھی۔ دارقطنی کی روایت کے مطابق اس کا ایک فقرہ یہ تھا : فاذامال النهار عن شطره عند الزوال من يوم الجمعة فتقربوا الى الله تعالى بركعتين (جمعہ کے دن جب سورج نصف النہار سے ڈھل جائے تو دو رکعت نماز کے ذریعہ اللہ کی نزدیکی حاصل کرو) دنیا طلبی خدا سے دور کرتی ہے دنیا طلب علمار کی بابت ایک حدیث قدسی میں آیا ہے : ان ادنى ما انا صانع بهم ان انزع حلاوة المناجاة من قلوبهم (جامع بيان العلم وفضله ، جزء اول، صفحه ۱۹۳) سب سے ادنی بات جو میں ان کے ساتھ کرنے والا ہوں وہ یہ دعا کی مٹھاس کو ان کے دلوں سے چھین لوں۔ ان کی عبادت تھی سوچنا اور عبرت پکڑنا ابو الدر دار ضی اللہ عنہ کے سامنے سے دو بیل گزرے ۔ دونوں پر بوجھ لدا ہوا تھا۔ ایک کھڑا رہا ، دوسرا بیٹھ گیا۔ اس کو دیکھ کر ابو درد ارنے کہا : اس میں بھی عبرت ہے (ان في هذل المعتبرا ، صفة الصفوة ، جلد اصفحه ۲۵۸) عون بن عبداللہ بن عتبہ کہتے ہیں کہ میں نے ام الدر دار سے پوچھا کہ ابو الدر دار کا سب سے افضل عمل کیا ہوتا تھا۔ انھوں نے جواب دیا تفکر اور عبرت (التفكر والاعتبار، ابونعیم فی الحلية) محمد بن واسع کہتے ہیں کہ ابو ذر رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد بصرہ سے ایک شخص آیا اور ام ذر سے ملا ۔ اس نے پوچھا کہ حضرت ابو ذر کی عبادت کا حال بتائیے ۔ ان کی اہلیہ نے جواب دیا وہ اکثر سارے دن تنہا بیٹھے ہوئے غور و فکر کرتے رہتے تھے (کان اجمع النهار خالیا يتفكر، ابونعیم) خشوع ظاہری آداب کا نام نہیں حضرت عائشہ رضہ نے ایک بزرگ کو دیکھا ۔ وہ بہت مضمحل حالت میں چل رہے تھے۔ آپ نے پوچھا ان کا کیا حال ہے۔ جواب دیا گیا یہ قراء میں سے ہیں (یعنی قرآن پڑھنے پڑھانے والے اور تعلیم و عبادت میں مشغول رہنے والے ہیں) یہ سن کر حضرت عائشہ رضہ نے کہا: "عمر سید القرار تھے۔ مگر ان کا یہ حال تھا کہ جب چلتے تو زور سے چلتے ۔ جب بولتے تو قوت کے ساتھ بولتے اور جب پیٹتے تو خوب پیتے ۔“ جائز چیزوں سے روزہ رکھ کر نا جائز چیزوں سے افطار کرنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں۔ دو عورتوں نے روزہ رکھا اور دونوں ساتھ بیٹھ کر دوسروں کی غیبت و شکایت کرتی رہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی بابت معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا: انهما لم يصوما - وكيف صام من ظل هذا اليوم يأكل ان دونوں نے روزہ نہیں رکھا۔ اس کا روزہ کیسے ہوگیا لحوم الناس (ابوداؤد، بیہقی) جو روزہ رکھ کر لوگوں کے گوشت کھاتا رہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader