Urdu book · اسلامی زندگی

عبادت

Urdu book, p. 36

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں: ان ھاتین صاما عمّا احلّ اللہ لہما وا فطرتا ان دونوں عورتوں نے اس چیز سے روزہ رکھا جو اللہ علی ما حرم اللہ علیہما۔ جلست احد اھما الی نے ان کے لئے حلال کیا تھا اور پھر دونوں نے اس چیز الاخری فجعلتا تأكلان من لحوم الناس سے افطار کر لیا جو اللہ نے دونوں کے لئے حرام کیا تھا۔ (ترغیب وترہیب جلد م) ایک ان میں سے دوسری کے پاس بیٹھی گئی اور دونوں لوگوں کے گوشت کھاتی رہیں۔ نماز کے بعد کچھ دیر نماز کی کیفیت طاری رہنا چاہئے ابو رمثہ رضان کہتے ہیں، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ آپ نے نماز پوری کر کے سلام پھیرا۔ ایک شخص جو شروع سے نماز میں شریک تھا۔ فورا سنت پڑھنے کے لئے کھڑا ہو گیا۔ عمر فاروق رتہ کو دکر اس شخص کے پاس پہنچے اس کے مونڈھوں کو پکڑ کر جھنجھوڑا اور کہا کہ بیٹھو "اہل کتاب اسی لئے ہلاک ہوئے کہ ان کی نمازوں میں فصل نہیں ہوتا تھا۔ (یعنی ایک نماز ختم کر کے فوراً دوسری نماز شروع کر دیتے تھے) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نگاہ اوپر اٹھائی اور فرمایا: ابن خطاب ! اللہ نے تمھارے ذریعہ سے حق و ثواب تک پہنچایا (ابو داؤد) خدا کو سنانے کے لئے بلند آواز کی ضرورت نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لوگوں نے سوال کیا: اقریب ربنا فننا جيه ام بعید فنناد یہ ہمارا رب ہم سے قریب ہے کہ اس سے ہم سرگوشی کریں یا دور ہے کہ ہم اس کو پکاریں۔ اس کے جواب میں قرآن میں آیت اتری : جب میرے بندے میرے متعلق پوچھیں تو ان کو بتا دو کہ میں ان سے قریب ہوں۔ پکارنے والا جب مجھ کو پکارتا ہے تو میں اس کی پکار کو سنتا ہوں اور اس کا جواب دیتا ہوں“ (بقرہ - ۱۸۷) صحیحین میں ابو موسیٰ اشعری سے منقول ہے : رفع الناس اصواتهم بالدعاء فی بعض الاسفار، فقال لہم النبی صلی اللہ علیہ وسلم یا ایہا الناس اربعوا علی انفسکم فانكم لا تدعون اصم ولا غائبا ان الذی تدعو نہ سمیع قریب، اقرب الی احد کم من عنق راحلته ایک سفر میں دعا کے موقع پر لوگوں نے اپنی آوازیں بلند کیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے لوگو اپنے اوپر نرمی کرو کیوں کہ تم کسی بہرے یا غیر حاضر کو نہیں پکار رہے ہو ۔ تم جس کو پکار رہے ہو وہ سننے والا قریب ہے۔ وہ تمھاری سواری کی گردن سے بھی زیادہ تم سے قریب ہے ۔ دین بے فائدہ ہے اگر اس کا مقصد دنیا حاصل کرنا ہو۔ عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : مَن تَعَلَّمَ عِلماً مِمَّا يُبْتَغَى بهِ وَجْهُ اللَّهِ عز و جل لا يَتَعَلَّمُهُ إلا ليُصِيبَ بهِ عرضاً منَ الدّنيا لم يجدْ عَرْفَ الجنة يوم القيامة (ابوداؤد) حضرت ابو ہریرہ رضان کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ وہ علم جس سے اللہ کی رضا چاہی جاتی ہے اس کو جس شخص نے دنیا حاصل کرنے کے لئے سیکھا تو وہ قیامت کے دن جنت کی خوشبو بھی نہ پائے گا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page