Urdu book · اسلامی زندگی

عبادت

Urdu book, p. 37

By Maulana Wahiduddin Khan

اصل عبادت اللہ کے آگے عاجزی کرنا ہے عبد اللہ بن جدعان زمانہ جاہلیت کے عربوں میں بڑا فیاض اور مہمان نواز آدمی تھا۔ وہ رشتہ میں حضرت عائشہ کا چچازاد بھائی تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل مر گیا۔ حضرت عائشہ نے ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اے خدا کے رسول، عبداللہ بن جدعان لوگوں کی بہت خدمت کرتا تھا اور لوگوں کو کھانا کھلایا کرتا تھا۔ کیا قیامت کے دن ابن جدعان کا یہ عمل اس کو نفع دے گا۔ آپ نے فرمایا نہیں۔ کیوں کہ اس نے کبھی یہ نہ کہا کہ رب اغفر لی خطیئتی یوم الدین (میرے رب، بدلہ کے دن میری خطاؤں کو معاف کر دے، مسلم) خدا کو بندے کی عاجزانہ پکار پسند ہے بندہ جب اپنے رب کو پکارتا ہے اور وہ اس کو محبوب ہوتا ہے تو وہ فرماتا ہے: اے جبریل، میرے بندے کی حاجت پوری کرنے میں جلدی نہ کر۔ مجھے محبوب ہے کہ میں اس کی آواز کو سنوں (جاء في الآثار ان العبد اذا دعا ربه دھو يحبه قال: يا جبریل لا تعجل بقضاء حاجة عبدی فانی احب ان اسمع صوته ابن رجب حنبلی، جامع العلوم والحکم، مكتبة الرياض الحديثة، قاهره ۱۹۶۲، صفحه ۴۲۴) محتاط زندگی کیسی ہوتی ہے حضرت عمر بن عبدالعزیز نے فرمایا: جس معاملہ میں ہدایت ظاہر ہو اس کی پیروی کرو۔ جس معاملہ کا نقصان ظاہر ہو اس سے بچو۔ جو معاملہ مشتبہ نظر آئے اس کو اللہ کے حوالے کر دو (امر استبان رشدہ فاتبعہ وامر استبان ضررہ فاجتنبہ و امر اشکل امرہ علیک فرده الی الله) اچھائی کا ذکر کرنا اور برائی کو چھپانا ابو ہرون کہتے ہیں کہ میں ابو حازم کے پاس گیا اور ان سے کہا: اللہ آپ پر رحم کرے، دونوں آنکھوں کا شکر کیا ہے۔ انھوں نے کہا: جب تم اپنی آنکھوں سے اچھائی دیکھو تو اس کا تذکرہ کرو، اور جب تم اپنی آنکھوں سے برائی دیکھو تو اس کو چھپاؤ۔ پھر میں نے پوچھا کہ دونوں کانوں کا شکر کیا ہے۔ انھوں نے کہا: ــــــــــ جب تم اپنے کانوں سے اچھائی سنو تو اس کو یاد کرو اور جب تم اپنے کانوں سے برائی سنو تو اس کو بھلا دو (قال ابو هرون، دخلت علی ابی حازم فقلت له: يرحمك الله ما شكر العينين ـ قال اذا رأيت بهما خيرا ذكرته واذا رأيت بهما شرا سترته ـ قلت فما شكر الاذنين ـ قال اذا سمعت بهما خيرا حفظته فاذا سمعت بهما شرا انسيته) تین باتیں جو ہر چیز کی جامع ہیں عن أم انیس رضی الله عنها أنها قالت یا رسول اللہ ام انس رضی اللہ عنہا بتاتی ہیں کہ انھوں نے کہا اے خدا أوصنی. قال: أ هجرى المعاصى فإنها افضل کے رسول مجھے وصیت کیجیے‘ آپ نے فرمایا: گناہوں کو الهجرة۔ وحافظى على الفرائض فانها چھوڑ دو، یہ سب سے بڑی ہجرت ہے۔ فرائض کی نگہداشت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page