Urdu book · اسلامی زندگی

عبادت

Urdu book, p. 38

By Maulana Wahiduddin Khan

افضلالجہاد واکثری من ذکر اللہ فانک لا کر دو، یہ سب سے بڑا جہاد ہے۔ اللہ کو بہت زیادہ یاد تاتین اللہ بشيئ احب اليه من کثرة ذکر اللہ کر دو، کیونکہ تم اللہ کے پاس اس کی محبوب چیز (ترغیب و ترہیب بحوالہ طبرانی) جو لے جاسکتی ہو وہ اس کی یاد ہے۔ علم وہی ہے جو اللہ سے ڈر پیدا کرے جبیر بن نفیر نے عوف بن مالک أشجعی کے واسطہ سے نقل کیا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کے اصحاب بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ نے آسمان کی طرف نظر کی اور فرمایا کہ وہ وقت آنے والا ہے جب کہ علم اٹھا لیا جائے گا۔ انصار میں سے ایک شخص نے کہا جس کا نام زیاد بن لبید تھا۔ اے خدا کے رسول! کیا ہم سے علم اٹھا لیا جائے گا۔ حالانکہ ہمارے درمیان خدا کی کتاب ہے اور ہم اپنے بچوں اور عورتوں کو اس کی تعلیم دے رہے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ میں تم کو مدینہ کا سب سے زیادہ سمجھ دار آدمی جانتا تھا۔ کیا تم یہود کی گمراہی کو نہیں دیکھتے۔ حالاں کہ ان کے درمیان خدا کی کتاب موجود ہے۔ اس کے بعد جبیر بن نفیر کی ملاقات شداد بن اوس سے ہوئی۔ انھوں نے ان کو یہ حدیث سنائی۔ شداد بن اوس نے کہا۔ جانتے ہو علم کا اٹھ جانا کیا ہے۔ انھوں نے کہا نہیں۔ شداد نے کہا، اس کے برتن کا چلا جانا۔ (ذہاب وعیئته) اس کے بعد شداد نے کہا : هل تدری ای العلم يرفع قال قلت لا ادری قال کیا تم جانتے ہو کون سا علم اٹھا لیا جائے گا۔ انھوں نے ال خشوع حتی لا یری خاشعا ، ابن عبدالبر جامع بیان کہا نہیں۔ فرمایا: خشوع اٹھا لیا جائے گا۔ یہاں تک کہ تم العلم و فضلہ، جز رادل، صفحہ ۱۵۳ کوئی خاشع نہ دیکھو گے۔ بے راہ ہو جانے کا خطرہ ہر ایک کے لئے ہے عن ابی ھریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ یہ امت ایک عرصہ تک وسلم تعمل هذه الامۃ برهة بكتاب الله ، ثم کتاب اللہ پر عمل کرے گی۔ پھر ایک عرصہ تک اللہ کے تعمل برهة بسنۃ رسول الله ، ثم تعمل بعد رسول کی سنت پر عمل کرے گی۔ اس کے بعد وہ رائے ذلك بالرای، فاذا عملوابالرای ضلوا (جامع بیان پر عمل کرے گی۔ اور جب وہ رائے پر عمل کرے گی تو وہ العلم و فضلہ، جز ر ثانی، صفحہ ۱۴) گمراہ ہو جائے گی۔ بزرگ پرستی دھیرے دھیرے بت پرستی بن جاتی ہے سورہ نوح میں قدیم زمانہ کے کئی بتوں کا ذکر ہے ۔ ود ، سواع، یغوث، یعوق اور نسْر۔ اس سلسلے میں مفسر ابن جریر طبری نے محمد بن قیس کے واسطہ سے ایک روایت نقل کی ہے کہ بتوں کے یہ نام دراصل ان قوموں کے بزرگوں کے نام پر ہیں۔ یہ اللہ کے نیک بندے تھے جو حضرت آدم ۳ اور حضرت نوح ع کے درمیانی زمانہ میں پیدا ہوئے ۔ ان کے بہت سے معتقدین تھے جو ان کی پیروی کرتے تھے، جب ان صالحین کا انتقال ہو گیا تو ان کے معتقدین نے کہا: اگر ہم ان کی صورت بنالیں تو اس سے ہمارے شوق عبادت میں اضافہ ہوگا۔ چنانچہ انھوں نے ان صالحین

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page