Urdu book · اسلامی زندگی

اخلاص

Urdu book, p. 48

By Maulana Wahiduddin Khan

نیک اور بد ہونے کی پہچان حضرت عائشہ رض سے ایک شخص نے پوچھا: میں اپنے آپ کو نیک کب سمجھوں۔ انھوں نے جواب دیا: جب تجھ کو اپنے برے ہونے کا گمان ہو جائے۔ آدمی نے دوبارہ پوچھا: میں اپنے آپ کو برا کب سمجھوں۔ جواب دیا جب تو اپنے آپ کو نیک سمجھنے لگے۔ دین کے نام پر دنیا کمانا بے حسی پیدا کرتا ہے حسن بصری نے کہا: عالم کی سزا اس کے دل کا مر جانا ہے۔ پوچھا گیا دل کا مرنا کیا ہے۔ فرمایا: آخرت کے عمل سے دنیا کا فائدہ چاہنا۔ (عقوبۃ العالم موت القلب۔ قیل لہ وما موت القلب۔ قال: طلب الدنيا بعمل الآخرة، جامع بيان العلم وفضله، جزء اول، صفحه ۱۹۲) موت کا دن آدمی کے جاگنے کا دن ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگ سوئے ہوئے ہیں۔ جب مریں گے تو بیدار ہوں گے (الناس نيام اذا ماتوا انتبهوا) یعنی انسان دنیا میں اتنا مشغول ہے کہ وہ آخرت کے معاملہ میں غافل ہو گیا ہے۔ گویا کہ وہ دنیا میں جاگ رہا ہے اور آخرت میں سورہا ہے۔ مگر جب موت اس کی آنکھ کا پردہ ہٹائے گی تو اس کو معلوم ہو گا کہ وہی چیز اصل تھی جس کو اس نے غیر اہم سمجھ کر نظر انداز کر دیا تھا ۔ دنیا کی طرف لگاؤ آدمی کو آخرت کے معاملہ میں کمزور کر دیتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک زمانہ آئے گا جب تم سیلاب کے خس و خاشاک کی طرح بے حقیقت ہو جاؤ گے. صحابہ نے پوچھا اے خدا کے رسول اس کا سبب کیا ہو گا ۔ آپ نے فرمایا تمھارے اندر وھن پیدا ہو جائے گا۔ لوگوں نے دوبارہ پوچھا اے خدا کے رسول وھن کیا ہے ۔ آپ نے فرمایا دنیا کی محبت اور موت کا ڈر (حب الدنيا كراهية الموت) آدمی اپنے کو جہنم کے کنارے کھڑا ہوا پائے گا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کرکے مدینہ پہنچے ۔ وہاں آپ نے جو پہلا خطبہ دیا وہ یہ تھا : اے لوگو! اپنے لئے آگے بھیجو، یقیناً تم اس کو جان لو گے۔ خدا کی قسم ضرور ایسا ہوگا کہ تم میں سے ہر شخص پر بے ہوشی طاری ہوگی بکریوں والا بکریاں چھوڑ کر اس طرح چلا جائے گا کہ ان کا کوئی گلہ بان نہ ہوگا۔ پھر اس کا رب اس سے کہے گا اور اس کے اور خدا کے درمیان کوئی ترجمان نہ ہوگا اور نہ بیچ میں کوئی رکاوٹ حائل ہوگی ساس کا رب اس سے کہے گا کیا تمھارے پاس میرا پیغمبر نہیں آیا ۔ پھر تم کو اس نے میرا پیغام پہنچایا۔ اور میں نے تم کو مال دیا اور تمھارے اوپر فضل کیا۔ پھر تو نے اپنے لئے آگے کیا بھیجا۔ اس وقت وہ آدمی اپنے دائیں اور بائیں دیکھے گا تو وہاں کچھ نہ پائے گا ۔ پھر وہ اپنے آگے دیکھے گا تو اس کو وہاں جہنم کے سوا اور کچھ نظر نہ آئے گا ۔ پس جو اپنے چہرے کو آگ سے بچاسکے تو وہ ضرور بچائے خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعہ سے ہو۔ اور جس کے پاس وہ بھی نہ ہو تو وہ میٹھا بول بولے۔ کیوں کہ اس کا بھی بدلہ ملے گا ۔ اور نیکی کا بدلہ دس گناہ سے شروع ہوتا ہے اور سات سو گنا تک ملتا ہے : اسلام علیکم ورحمة اللہ وبركاته (سيرت النبی لابن هشام، جلد ۲)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page