Urdu book · اسلامی زندگی

اخلاص

Urdu book, p. 49

By Maulana Wahiduddin Khan

اپنے اعمال کو بے حقیقت سمجھو سعید بن جبیر تابعی سے کسی نے پوچھا: سب سے بڑا عبادت گزار کون ہے۔ جواب دیا: وہ شخص جو گناہ ہو میں مبتلا تھا پھر اس نے توبہ کر لی۔ اور اس کے بعد اس کا یہ حال رہا کہ جب اس نے اپنے گناہوں کو یاد کیا تو اس کے مقابلہ میں اپنے اعمال کو بے حقیقت جاننا (صفوة الصفوة) سب سے بڑا عمل وہ ہے جس کی خاطر اپنے اوپر جبر کرنا پڑے ایک روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمام اعمال میں تین عمل سب سے زیادہ سخت ہیں ۔ اپنی ذات کے معاملہ میں لوگوں کے ساتھ انصاف کرنا۔ اپنے مال سے اپنے بھائیوں کی مدد کرنا اور ہر حال میں اللہ کو یاد کرنا (اشد الاعمال ثلاث : انصاف الناس من نفسك، ومواسادة الاخوان من مالك، وذكر الله على كل احوالك) کسی پہلو سے دین کے کام آجانا جنت کے استحقاق کے لئے کافی نہیں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جنگ خیبر میں ایک شخص نے حصہ لیا اور پوری قوت سے لڑتا رہا۔ بالآخر اس کے انتقال کی خبر پھیل گئی۔ لوگوں کے درمیان اس کی بہادری کے چرچے ہوئے۔ لوگوں نے کہنا شروع کیا کہ اس نے ضرور شہادت کا درجہ پایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا: وہ دوزخیوں میں سے ہے (ھو من اهل النار) لوگوں کو اس کی جان بازی اور بہادری کی وجہ سے آپ کی بات پر شبہ ہونے لگا۔ آپ نے فرمایا جاؤ تحقیق کرو کہ وہ کس طرح مرا ہے۔ لوگوں نے تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ وہ زخمی ہو کر گرا تھا، اسی حالت میں پڑا رہا۔ جب رات ہوئی تو زخموں کی تاب نہ لا کر اس نے خود کشی کر لی۔ (اس طرح تصدیق ہو گئی کہ وہ شہید نہیں ہوا بلکہ حرام موت مرا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی گئی تو آپ نے فرمایا : میں شہادت دیتا ہوں کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ پھر آپ نے حضرت بلال ران سے کہا کہ جاؤ لوگوں میں یہ اعلان کر دو کہ جنت میں صرف وہی شخص داخل ہوگا جو واقعی مسلم ہے۔ اور اس دین کی مدد اللہ تعالیٰ فاجر آدمی کے ذریعہ بھی کرتا ہے (لايدخل الجنة الا نفس مسلمة وان الله ليؤيد هذا الدين بالوجل الفاجر، بخاری) اپنے عمل کو بے قیمت سمجھنا حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کسی نے کہا کہ آپ کی بڑی دینی خدمات ہیں۔ آپ کا درجہ اللہ کے یہاں بڑا ہو گا ۔ انھوں نے کہا: كفانافلاث لائی دلا علی۔ یعنی معاملہ اگر برابر سرابر ہو جائے تو یہی بہت ہے۔ دنیوی ترقی دیکھ کر ساتھ دینا نفاق ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ آئے تو عبد اللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں نے آپ کے اور آپ کے مشن کے خلاف طرح طرح کی فتنہ انگیزیاں کیں اور اسلام کا راستہ روکنے کے لئے تمام ممکن تدبیریں کرتے رہے۔ مگر اس کے بعد جب بدر کی لڑائی پیش آئی اور اس میں قریش کے بڑے بڑے سردار ختم ہو گئے تو عبد اللہ بن ابی اور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page