Urdu book · اسلامی زندگی

اخلاص

Urdu book, p. 51

By Maulana Wahiduddin Khan

کرتا ہوں کہ وہ تم کو معاف کردے (یاهذا ان كان ما قلته في حقافانا اسأل الله ان يغفر لى ، وان كان ما قلته في باطلا فانا اسأل الله ان يغفر لك) اپنے گناہوں کو دیکھو نہ کہ دوسروں کے گناہوں کو حضرت ربیع ابن خیثمہ کبھی کسی کو برا نہیں کہتے تھے۔ ایک بار انھوں نے فرمایا : لوگوں کا عجیب حال ہے۔ وہ دوسروں کے گناہوں پر تو خدا سے ڈرتے ہیں۔ لیکن خود اپنے گناہوں کی جانب سے بے خوف ہیں (طبقات ابن سعد) خدا اور رسول کی بات کے آگے جھک جانا ابو حجیفہ رضی اللہ عنہ اچھے کھانے کا شوق رکھتے تھے۔ ایک روز عمدہ کھانا خوب سیر ہو کر کھایا اور اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں حاضر ہوئے۔ آپ کے پاس بیٹھے تھے کہ حضرت ابو حجیفہ کو ڈکار آگئی۔ آپ نے سنا تو فرمایا: جولوگ دنیا میں سب سے زیادہ آسودہ ہیں، قیامت میں وہی سب سے زیادہ بھوکے ہوں گے (اکثرهم شبعا في الدنيا اكثرهم جوعا يوم القيامة) حضرت ابو حجیفہ پر اس کا اتنا اثر ہوا کہ اس کے بعد انھوں نے کبھی پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا۔ جنتی وہ ہے جس کا دل بغض سے خالی ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار کچھ لوگوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ نے فرمایا کہ اس پہاڑی راستہ سے ایک جنتی شخص آرہا ہے۔ اتنے میں ایک مسلمان اس راستہ سے آتا ہوا دکھائی دیا۔ کچھ لوگ اس سے ملے اور پوچھا کہ تم کیا عمل کرتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمھارے بارے میں جنتی ہونے کی خبر دی، اس نے جواب دیا: میرے پاس کوئی خاص عمل نہیں۔ البتہ میں اپنے دل میں کسی مسلمان کے خلاف کسی قسم کا کینہ نہیں رکھتا۔ دوسروں کی اصلاح کرنا اور اپنی اصلاح قبول کرنے کے لئے تیار رہنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ منتخب ہوئے تو آپ نے اپنے خطبہ میں فرمایا: لوگو، تمھارا معاملہ میرے سپرد کیا گیا ہے حالاں کہ میں تم سے بہتر نہیں ہوں۔ میرے نزدیک کمزور آدمی تم میں سب سے زیادہ طاقت ور ہے جب تک کہ میں اس کا حق اس کو نہ دلادوں۔ اور میرے نزدیک طاقت ور آدمی تم میں سب سے زیادہ کمزور ہے جب تک میں اس سے حق وصول نہ کروں۔ لوگو، میں صرف تمھارے ایک آدمی کی طرح ہوں۔ جب تم مجھ کو دیکھو کہ میں سیدھی راہ پر ہوں تو میری پیروی کرو اور اگر میں ٹیڑھا ہو جاؤں تو مجھ کو سیدھا کر دو (یا ايها الناس اني قد وليت امرکم ولست بخيركم وان اقواكم عندي الضعيف حتى آخذ له بحقه وان اضعفكم عندي القوی حتی آخذ منه الحق ۔ یا ایہا الناس ما انا الا کا حد کم فاذا رأيتموني قد استقمتم فاتبعوني وان زغت فقومنی) عمل کا آخری درجہ یہ ہے کہ آدمی کسی کو نقصان نہ پہنچائے یحییٰ بن معاذ رازی نے کہا: مسلمان بھائی کو اگر تم فائدہ نہ پہنچا سکو تو اس کو نقصان بھی نہ پہنچاؤ (وان لم تنفعه فلا تضره)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page