Urdu book · اسلامی زندگی

اخلاص

Urdu book, p. 52

By Maulana Wahiduddin Khan

نہ کریں گے، خاموش رہیں گے ۔ آپ نے فرمایا: ان سے کہو کہ وہ بات چیت کریں، سایہ میں جائیں اور بیٹھیں اور اس طرح اپنے روزے کو پورا کریں (مرودہ فلیتکم ویستظل ولیتقعد ولیتم صومہ ، تفسیر قرطبی، بقره) خدا بننے کی کوشش نہ کرو محمد بن قصار نیشاپوری (م ۷۱۷ھ) سے کسی نے پوچھا کہ بندہ کون ہے ۔ انھوں نے جواب دیا : ” وہ جو عبادت کرے اور یہ نہ چاہے کہ لوگ اس کی عبادت کریں“ عبادت اس طرح نہ کی جائے کہ کسی کو تکلیف ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں معتکف تھے ۔ آپ نے سنا کہ کچھ لوگ اونچی آواز سے پڑھ رہے ہیں ۔ آپ نے اعتکاف کا پردہ اٹھایا اور کہا : دیکھو، تم سب خدا سے مناجات کر رہے ہو ، پس ایک شخص دوسرے شخص کو ہرگز تکلیف نہ دے اور قرآن پڑھنے میں ایک دوسرے کے اوپر آواز بلند نہ کرے (اعتکف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم في المسجد فسمعهم يجهدون بالقرآن فكشف الستر فقال الا ان كلكم مناجي ربه فلا يؤذين بعضكم بعضاً ولا يرفع بعضكم على بعض في القراءة ، ابو داؤد) برکت والی تقریب وہ ہے جو سادہ تقریب ہو عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سب سے زیادہ برکت والا نکاح وہ ہے جو سب سے کم بوجھ والا ہو ( ان اعظم النکاح برکة ایسرہ، رواه البیهقی فی شعب الایمان) ظاہری چیزوں میں شدت برتنا غلط ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا : ھلك المتنطعون هلك المتنطعون هلك المتنطعون (ہلاک ہو گئے شدت برتنے والے ، ہلاک ہو گئے شدت برتنے والے ، ہلاک ہو گئے شدت برتنے والے) سہولت کا طریقہ اختیار کرو نہ کہ مشقت کا ایک صحابی کا واقعہ ہے۔ وہ میدان میں تھے ۔ نماز کا وقت آگیا ۔ انھوں نے گھوڑے کی باگ پکڑے ہوئے نماز پڑھی۔ ایک خارجی نے اس پر اعتراض کیا کہ دیکھو یہ صحابی ہیں اور گھوڑے کی باگ پکڑ کر نماز پڑھ رہے ہیں۔ صحابی نے جواب دیا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ وہ آسانی کو پسند کرتے تھے۔ اگر میں گھوڑے کو چھوڑ دیتا تو وہ بھاگ جاتا۔ میں پیدل چلنے پر قادر نہ تھا، مجھ کو خواہ مخواہ پریشانی اٹھانی پڑتی ۔ (حدیث نماز کے وقت باگ پکڑنے کے بارے میں نہیں تھی ۔ انھوں نے ایک عام حکم سے استنباط کرتے ہوئے ایسا کیا)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page