اخلاص
Urdu book, p. 53
By Maulana Wahiduddin Khan
غیر ضروری مشقت اٹھانے کا نام نیکی نہیں کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی سفر فرأی رجلاً جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قد اجتمع الناس عليه وقد ظُلت عليه ایک سفر میں تھے۔ آپ نے دیکھا کہ ایک شخص کو گھیرے فقال مالہ قالوا رجل صائم فقال ليس ہوئے ہیں۔ اور اس پر سایہ کئے ہوئے ہیں۔ آپ نے البر ان تصوموا في السفر پوچھا کیا بات ہے۔ لوگوں نے کہا ایک روزہ دار ہے۔ (بخاری، مسلم، ابوداؤد، نسائی) آپ نے فرمایا کہ سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں ہے۔ دینی قائد کو عوام کی رعایت کرنی چاہئے نسائی نے حضرت جابر بن عبد اللہ سے روایت کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت معاذ نے مغرب کی نماز پڑھائی۔ اس میں انہوں نے سورہ بقرہ اور سورہ نساء پڑھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا: اے معاذ، کیا تم لوگوں کو فتنہ میں مبتلا کرنے والے ہو۔ کیا تمھارے لئے یہ کافی نہ تھا کہ تم سورہ طارق اور سورہ شمس جیسی سورتیں پڑھتے (روی النسائی عن جابر بن عبد الله قال : صلی معاذ المغرب فقرأ البقرة و النساء فقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم افتان انت یا معاذ اما کان يكفيك ان تقرأ بالسماء و الطارق والشمس وضحاها ونحوها) بزرگی کا تعلق دل سے نہ کہ ظاہری اعمال سے ابو بکر مزنی نے کہا، ابو بکر رضی اللہ عنہ کی فضیلت دوسرے صحابہ پر اس لئے نہیں تھی کہ وہ دوسروں سے زیادہ روزے رکھتے تھے یا دوسروں سے زیادہ نمازیں پڑھتے تھے۔ ان کی فضیلت ایک ایسی چیز کی وجہ سے تھی جو ان کے دل میں تھی ۔ ابن علیہ نے ابو بکر مزنی کے اس قول کی وضاحت کرتے ہوئے کہا، ابو بکر رضی اللہ عنہ کے دل میں جو چیز تھی وہ تھی اللہ کی محبت اور اللہ کے بندوں کے لئے خیر خواہی (قال ابن عُلية في قول ابي بكر المزني : ما فاق ابوبکر رضی اللہ عنہ اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم بصوم ولا صلاة - ولكن بشئ كان في قلبه ۔ قال: الذي كان في قلبه الحب للہ عز وجل والنصيحة في خلقه ، جامع العلوم والحكم) دین میں توسع ہے ، تنگی نہیں عن عضييف بن الحارث قال دخلت على عائشة عضييف بن حارث رضہ کہتے ہیں۔ میں عائشہ رضہ کے یہاں گیا۔ فسألتها فقلت اكان رسول الله صلى الله عليه وسلم میں نے ان سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے يغتسل من اول الليل او من آخره قالت كل ذلك ابتدائی حصہ میں غسل کرتے تھے یا رات کے آخری حصہ میں۔ كان ربما اغتسل من اوله وربما اغتسل من آخره عائشہ رضہ نے جواب دیا سب وقتوں میں۔ آپ کبھی رات کے قلت الحمد لله الذي جعل في الاموسعة ابتدائی حصہ میں غسل کرتے اور کبھی رات کے آخری حصہ میں۔ نسائی كتاب الغسل والتيمم 70 میں نے کہا: شکر ہے اللہ کا جس نے دین میں وسعت رکھی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader