Urdu book · اسلامی زندگی

اخلاص

Urdu book, p. 60

By Maulana Wahiduddin Khan

روزے رکھو، بیت اللہ کا حج کرو، اللہ کے راستہ میں جہاد کرو۔ میں نے کہا: "اے خدا کے رسول! میں سب کروں گا۔ مگر ان میں سے ردی میرے اندر طاقت نہیں، ایک زکوۃ۔ خدا کی قسم میرے پاس صرف دس اونٹنیاں ہیں۔ انہیں کا دودھ میرے گھر والوں کی خوراک ہے اور یہی ان کی سواری اور بار برداری کا ذریعہ ہیں۔ دوسرے جہاد۔ میں ایک کمزور دل کا آدمی ہوں۔ لوگ کہتے ہیں کہ جس نے جہاد سے پیٹھ پھیری وہ اللہ کے غضب میں آگیا۔ مجھے خطرہ ہے کہ اگر جنگ میں شرکت کرنی پڑی تو مجھ پر پرڈر غالب آجائے اور میں بھاگ کھڑا ہوں ۔ اور اللہ کے غضب کا مستحق بن جاؤں۔" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور کہا: یا بشير لا صدقة ولا جهاد فهم اذن تدخل اے بشیر! نہ صدقہ نہ جہاد ، پھر کیسے تم جنت میں داخل الجنة (كنز العمال) سوال اور غیر سوال کا فرق ہو گے مالک نے عطار بن یسار سے روایت کیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عطیہ بھیجا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو واپس کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: تم نے کیوں اس کو واپس کر دیا۔ انہوں نے کہا: اے خدا کے رسول! کیا آپ نے ہم کو نہیں بتایا کہ ہم میں سے ہر ایک کی بھلائی اس میں ہے کہ وہ کسی سے کوئی چیز نہ لے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انما ذلك عن المسألة ، فاما ما كان عن غير وہ بات میں نے سوال کے بارہ میں کہی تھی مگر وہ چیز بغیر سوال کے آئے تو وہ رزق ہے جو اللہ نے تم کو دیا ہے۔ مسألة فانما هو رزق يرزقكه الله عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے، اب کسی چیز کے لئے میں کسی سے سوال نہیں کروں گا۔ مگر جو چیز بغیر سوال کے میرے پاس آئے گی اس کو ضرورلوں گا۔ شہرت سے دور بھاگنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بعد کے زمانہ میں بکریاں چرانے لگے تھے۔ وہ مدینہ سے دور ایک میدان میں اپنی بکریاں چلا رہے تھے کہ ایک روز ان کے لڑکے عمر بن سعد سمار ہو کر ان کے پاس آئے اور کہا کہ کیا آپ نے اس کو پسند کیا ہے کہ بھیڑ بکریوں میں بدو بنے رہیں۔ حالاں کہ لوگ مدینہ میں حکومت و سیاست کے معاملات پر بحثیں کر رہے ہیں۔ حضرت سعد رضی نے اپنے بیٹے کے سینے پر ہاتھ مارا اور کہا: چپ رہو۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ اپنے اس بندے کو پسند کرتا ہے جو ڈرنے والا ہو، بے نیاز ہوا اور لوگوں سے چھپا ہوا ہو (اسکت انی سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول ان الله يحب العبد التقى الغنى الخفى، مسلم) علم نام ہے اللہ سے خوف کا عن عون بن عبد الله قال قال عبد الله بن مسعود ليس عبداللہ بن مسعود نے کہا۔ علم کثرت روایت کا نام نہیں ہے علم یہ ہے کہ آدمی اللہ رب العالمین سے ڈرنے لگے۔ اعلم بكثرة الرواية انما العلم خشية الله

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page