Urdu book · اسلامی زندگی

اخلاص

Urdu book, p. 61

By Maulana Wahiduddin Khan

آخرت کی فکر نے ان کو دیوانہ بنا دیا تھا حسن بصری تابعی نے بڑی تعداد میں اصحاب رسول اللہ کو دیکھا تھا۔ انھوں نے اپنی ایک تقریر میں اپنے زمانہ کے لوگوں سے کہا : لقد ادركت سبعين بدريا ۔ اكثر باسهم الصوف، میں نے ستر بدری صحابہ کو دیکھا ہے۔ ان کا لباس اکثر صوف ولو رأيتموهم نقلتم مجانين ۔ ولو رأوا خياركم کا ہوتا تھا۔ اگر تم انھیں دیکھتے تو کہتے کہ یہ پاگل ہیں۔ اگر فقالوا ما لهؤلاء من خلاق، ولو رأوا اشراركم وہ تمھارے اچھوں کو دیکھیں تو کہیں گے کہ دین میں ان فقالوا ما يوم من هؤلاء بيوم الحساب - ولقد کا کوئی حصہ نہیں۔ اگر وہ تمھارے بروں کو دیکھیں تو رأيت اقواما ما كانت الدنيا اهون علي احد هم وہ کہیں گے کہ یہ لوگ روزِ حساب پر ایمان نہیں رکھتے۔ من التراب تحت قدميه میں نے ایسے لوگ دیکھے ہیں کہ دنیا ان کے نزدیک پاؤں کے نیچے کی مٹی سے بھی زیادہ بے حقیقت تھی۔ سب سے بری چیز: خود پسندی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تین چیزیں نجات دینے والی ہیں اور تین چیزیں ہلاک کرنے والی ۔ نجات دینے والی چیزیں ہیں: کھلے اور چھپے اللہ کا ڈر رکھنا ، خوشی اور ناراضی دونوں حالتوں میں حق بات کہنا اور خوش حالی اور غریبی دونوں میں اعتدال پر قائم رہنا۔ ہلاک کرنے والی چیزیں یہ ہیں کہ خواہش کی پیروی کی جائے۔ بخل کا طریقہ اختیار کیا جائے ۔ اور آدمی کی خود پسندی۔ اور یہ آخری چیز سب سے زیادہ سخت ہے (بیہقی) کمزوروں کے معاملہ میں اللہ سے ڈرنا جنگ بدر (۳۷,۴۲) میں مشرکین کے جو ستر افراد گرفتار کر کے مدینہ لائے گئے، ان میں سے ایک کا نام سہیل بن عمرو تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ سہیل ایک آتش بیان مقرر ہے، آپ کے خلاف تقریریں کرتا رہتا ہے۔ اس کے دانت توڑ دیجیئے ۔ آپ نے فرمایا: "اگر میں اس کے دانت توڑ دوں تو اللہ میرے دانت توڑ دے گا اگرچہ میں رسول ہوں " (سیرت ابن ہشام) جنگ بدر کے قیدیوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف صحابہ کے گھروں میں بانٹ دیا اور ہدایت فرمائی: استوصوا بالاساری خیرا (ان قیدیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا) ان میں سے ایک قیدی ابوعزیز کا بیان ہے کہ مجھے جن انصاریوں کے گھر میں رکھا گیا وہ صبح و شام مجھ کو روٹی کھلاتے اور خود صرف کھجوریں کھا کر رہ جاتے۔ یمامہ کے سردار ثمامہ بن اثال جب گرفتار ہو کر آئے تو جب تک وہ قید میں رہے، آپ کے حکم سے ان کو عمدہ کھانا اور دودھ مہیا کیا جاتا رہا۔ مومن ہر وقت یاد رکھتا ہے کہ اس کی آخری منزل قبر ہے ابو نعیم نے عروہ کے واسطے سے نقل کیا ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ ایک روز ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ۔ آپ نے دیکھا کہ وہ کبا دہ کے ٹاٹ پر لیٹے ہوئے ہیں اور ایک گٹھری کا تکیہ بنا رکھا ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : تم نے وہ نہیں کیا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page