Urdu book · اسلامی زندگی

اخلاص

Urdu book, p. 62

By Maulana Wahiduddin Khan

جو تمھارے ساتھیوں نے کیا ہے۔ ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا : اے امیرالمؤمنین ! یہ میری خواب گاہ (قبر) تک پہنچانے کے لئے کافی ہے (یا امیرالمؤمنین ! هذا ابلغنی المقيل، حلیۃ الاولیاء، جلد ا) آخرت کی سختی کا خیال ہر چیز سے بے رغبت کر دیتا ہے ابو الدرداء رضی اللہ عنہ اسلام سے پہلے تجارت کرتے تھے۔ اسلام کے بعد ان کی تجارت چھوٹ گئی۔ ابن عساکر کی ایک روایت کے مطابق انھوں نے کہا : اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں ابو الدرداء کی جان ہے، آج مجھ کو یہ بھی پسند نہیں کہ مسجد کے دروازہ پر میری ایک دکان ہو۔ میری ایک بھی جماعت کی نماز نہ چھوٹتی ہو، میں روزانہ چالیس دینار نفع کماؤں اور سب کا سب اللہ کے راستہ میں صدقہ کر دوں۔" پوچھا گیا: اے ابو الدرداء ! کیا چیز ہے جس نے آپ کے لئے اس کو ناپسند بنا دیا ہے۔ جواب دیا : حساب کی سختی (شدة الحساب، کنز العمال، جلد ۲ صفحه ۱۴۹) آدمی لمبے انتظامات کرتا ہے حالاں کہ وہ جلد ہی مرنے والا ہے ابو نعیم نے عبداللہ بن ابو ہذیل سے نقل کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے جب اپنا گھر بنایا تو انھوں نے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے کہا ، آؤ دیکھو میں نے کیا بنایا ہے۔ عمار رضی اللہ عنہ گئے اور ان کا مکان دیکھا۔ پھر فرمایا : دور کی امید کر رہے ہو اور جلد ہی مرو گے (تامل بعید ا و تموت قريبا، حلية الاولياء جلد ۲ صفحه ۱۴۲) آخرت سے پہلے دنیا میں بدلہ ابو فرات کہتے ہیں کہ عثمان رضی اللہ عنہ کا ایک غلام تھا۔ ایک روز آپ نے اپنے غلام سے کہا : میں نے تیرا کان ملا تھا، تو مجھ سے اس کا بدلہ لے لے۔ اس نے آپ کا کان پکڑا۔ آپ نے فرمایا: اشد (درختی سے مل) : کتنا اچھا ہے کہ دنیا میں بدلہ ہو جائے ، آخرت میں بدلہ کے لئے نہ رہے۔ (یا حبذا قصاص في الدنيا لا قصاص في الآخرة) موت کے قریب پہنچ کر بلال بن رباح رضی اللہ عنہ کی موت کا وقت آیا تو ان کے گھر کے لوگ جمع ہوئے اور کہا: واکرباہ (ہائے غم)! بلال نے جواب میں کہا : واطرباہ، غد االقی الاحبة محمداً وصحبه رہائے خوشی ، کل میں اپنے دوستوں سے ملوں گا، محمد اور ان کے اصحاب سے) خلیفہ ثانی عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا آخروقت آیا تو آپ کی زبان سے نکلا : ان نحوست كفالا لا وزر ولا اجزانی السعيد راگر میں برابر پر چھوٹ جاؤں، نہ سزا ہو نہ انعام ملے تو یقیناً میں کامیاب رہا) سب سے زیادہ فکر جہنم کے عذاب سے بچنے کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ام حبیبہ رض نے ایک روز ان لفظوں میں دعا مانگی : اللهم امتعنی بزوجی رسول الله و بابي سفيان خدایا ! میرے شوہر رسول اللہ اور میرے باپ ابو سفیان و باخی معاویه (مسلم) اور میرے بھائی معاویہ کا سایہ میرے اوپر دراز رکھ۔ آپ نے سن کر فرمایا : ام حبیبہ ! عمریں تو سب کی یہاں مقرر ہو چکی ہیں، تم کو دعا کرنی تھی تو عذاب جہنم سے نجات پانے کی دعا کرتیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page