اخلاص
Urdu book, p. 63
By Maulana Wahiduddin Khan
مومن کی آنکھ کی ٹھنڈک یہ ہے کہ اس کی اولاد دین دار ہو مقداد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یہ حال تھا کہ ایک گھر میں کوئی اسلام کا ماننے والا ہوتا، کوئی اس کا انکار کرنے والا۔ ایک مسلمان اپنے باپ، اپنے بیٹے یا اپنے بھائی کو حالت کفر میں دیکھتا۔ اس سے سخت تکلیف ہوتی۔ اس کے دل کو اللہ نے جس ایمان کے لئے کھول دیا تھا، اس کی وجہ سے اس کو یقین ہوتا کہ یہ اسی حالت پر رہا تو ہلاک ہو جائے گا اور آگ کے عذاب میں داخل ہوگا۔ اس لئے اپنے ان رشتہ داروں کو دیکھ کر اس کی آنکھیں ٹھنڈی نہ ہوتیں (وقد فتح الله قفل قلبه لالايمان ليعلم انه قد هلك من دخل النار فلا تقر عينه، حليمة الاديا، جلداول) ایسے ہی لوگوں کے بارہ میں اللہ نے یہ آیت اتاری : ربنا هب لنا من ازواجنا وذرياتنا قرة اعين واجعلنا اے ہمارے رب ! ہم کو اپنی بیویوں اور اپنی اولاد میں آنکھوں للمتقين اماماً (شعراء) کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہم کو متقیوں کا امام بنا دے۔ جنت کی حرص طبرانی اور ابن عساکر نے بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مکہ کے مسلمان ہجرت کر کے مدینہ آئے۔ یہاں کا پانی ان کو پسند نہ آیا۔ بنی غفار کے ایک آدمی کے پاس ایک کنواں تھا جس کو بئر رومہ کہا جاتا تھا۔ مہاجرین کو اس کا پانی پسند تھا۔ اس کا مالک ایک مشک پانی ایک مد (صاع کا چوتھائی) کے عوض بیچتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی سے کہا: بعينها بعين في الجنة (اس کنویں کو جنت کے ایک چشمہ کے عوض مجھے بیچ دے)۔ اس آدمی نے کہا: میرے اور میرے عیال کے پاس اس کے سوا کوئی ذریعہ نہیں۔ اس لئے اس کو میں اس طرح نہیں دے سکتا۔ اس واقعہ کی خبر عثمان رضی اللہ عنہ کو پہنچی۔ انھوں نے بئر رومہ کو ۳۵ ہزار درہم دے کر خرید لیا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: اے خدا کے رسول! کیا اس کنویں کے عوض میرے لئے بھی جنت کا چشمہ ہے۔ آپ نے فرمایا ہاں۔ انھوں نے اس کو عام مسلمانوں کو دے دیا۔ ایک کے لئے برکت، دوسرے کے لئے وبال عبد الرزاق نے سعید بن مسیب کے واسطہ سے نقل کیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کو غزوہ حنین کے بعد کچھ عطیہ دیا۔ حضرت حکیم رض کو وہ کم معلوم ہوا۔ آپ نے دوبارہ عطا فرمایا۔ انھوں نے کہا اے خدا کے رسول! آپ کا کون سا عطیہ بہتر تھا۔ آپ نے فرمایا پہلا۔ پھر آپ نے کہا : يا حكيم بن حزام ان هذا المال خضرة حلوة فمن اے حکیم! یہ مال سرسبز وشیریں ہے۔ جس نے اس کو سخاوت نفس اخذة بسخاوة نفس وحسن اكلة بورك له فيه اور بہتر طریق پر کھانے کے لئے لیا اس کے لئے اس میں برکت دی ومن اخذة باستشراف نفس دسوء اكلة لم يبارك جائے گی۔ اور جس نے اس کو حرص نفس کے ساتھ لیا اور برے له فيه دكان كالذى ياكل ولا يشبع . واليد العليا خير طریقہ سے کھایا اس کے لئے اس میں برکت نہ دی جائے گی۔ اور من اليد السفلى ۔ قال ومنك يا رسول الله قال ومنك وہ اس آدمی کی طرح ہوگا جو کھاتا ہے مگر سیر نہیں ہوتا۔ اور اوپر (كنز العمال جلد ۳) کا ہاتھ نیچے کے ہاتھ سے بہتر ہے۔ پوچھا: خواہ آپ سے لے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader