Urdu book · اسلامی زندگی

اخلاص

Urdu book, p. 64

By Maulana Wahiduddin Khan

اے خدا کے رسول ، فرمایا خواہ مجھ سے لے دنیا میں جاہ پسندی آخرت میں ذلت کا باعث ہوگی بخاری نے ابو مجلز سے روایت کیا ہے ۔ معاویہ رض نکلے وہ ایک مقام پر پہنچے جہاں عبداللہ بن عامر رض اور عبداللہ بن زبیر رض بیٹھے ہوئے تھے۔ حضرت معاویہ رض کو دیکھ کر عبداللہ بن عامر رض کھڑے ہو گئے اور عبداللہ بن زبیر بیٹھے رہے۔ حضرت معاویہ رض نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جس کو یہ بات پسند ہو کہ اللہ کے بندے اس کے لئے کھڑے رہیں تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے (من سرہ ان يمثل له عباد الله قياما فليتبوأ بيتا من النار، الادب المفرد صفحه ۱۴۴) آخرت کی خاطر دنیا کو چھوڑنا ابو نعیم نے عبدالرحمن بن ابی لیلی کے واسطہ سے نقل کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس عراق سے کچھ لوگ آئے۔ کھانے کا وقت ہواتو آپ ان کے پاس ایک بڑا پیالہ لائے جس میں بے چھنے آٹے کی روٹی اور روغن زیتون تھا۔ ان لوگوں سے کہا کھاؤ۔ انھوں نے آہستہ آہستہ بہت تھوڑا تھوڑا کھانا شروع کیا۔ آپ نے فرمایا: اے اہل عراق! تم جو کچھ کر رہے ہو میں دیکھ رہا ہوں۔ سنو! اگر میں چاہوں تو میرے لئے بھی اچھا اور نرم کھانا تیار ہو سکتا ہے جیسا کہ تمھارے لئے تیار کیا جاتا ہے۔ پھر فرمایا: ولكن نستبقى من دنیا نا نجدها فى آخرتنا ۔ اما سمعتم مگر ہم اپنی دنیا میں باقی رکھتے ہیں تاکہ ہم اس کو اپنی آخرت میں الله عن دجل قال لقوم را ذهبتم طيباتكم فى حياتكم پائیں۔ کیا تم نے نہیں سنا کہ اللہ نے ایک گروہ کے لئے فرمایا : تم اپنی اچھی چیزیں اپنی دنیوی زندگی میں حاصل کرچکے۔ الدنيا ) ایک اور روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا: تم لوگ کیا چاہتے ہو۔ کیا میٹھا اور نمکین اور گرم اور سرد۔ جو بھی کھاؤ، پھینکنے ہی کی چیز پیٹ میں پینے گی (حلیۃ الاولیاء جلد ۱) سائب بن یزید کہتے ہیں۔ میں نے کئی بار شام کا کھانا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ کھایا۔ وہ معمولی روٹی اور سادہ گوشت کھاتے پھر اپنے ہاتھ کو اپنے پاؤں سے پوچھ لیتے اور فرماتے : آل عمر رض کا تو یہ یہی ہے ( يا كل الخبز و اللحم ثم يمسح يده على قدمه ثم يقول : هذ امنديل عمر و آل عمر ) دنیا کے معاملات میں بے نفسی خرجه ابن ابی الدنیا من رواية محمد بن مهاجر ابن ابی الدنیا نے محمد بن مہاجر کے واسطہ سے یونس بن میسرہ عن يونس بن ميسرة قال : ليس الزهادة في الدنيا کا قول نقل کیا ہے ۔ زہد یہ نہیں ہے کہ حلال چیزوں کو حرام بتحريم الحلال دلا اضاعة المال ولكن الزهادة في کر لو یا مال کو ضائع کرو۔ بلکہ زہد یہ ہے کہ تمھارے پاس الدنیا ان تكون بما في يد الله اوثق منك بما في يدك وان جو کچھ ہے اس سے زیادہ اعتماد تم کو اس پر ہو جو اللہ کے تكون حالك في المصيبة حالة اذا لم تصب بها پاس ہے۔ اور مصیبت میں تمھارا جو حال ہوتا ہے وہی سواء وان يكون ما دحك وذامك فى الحق سواء اس وقت بھی ہو جب کہ مصیبت نہ ہو۔ اور حق کے معاملہ جامع العلوم والحکم صفحه ۲۵ میں تعریف کرنے والا اور مذمت کرنے والا دونوں تمھاری نظر میں برابر ہو جائیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page