اخلاص
Urdu book, p. 65
By Maulana Wahiduddin Khan
خدا کو ہمارے دل کی تڑپ مطلوب ہے عبد اللہ بن جدعان ایک مشرک مگر نیک دل عرب تھا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے مر گیا۔ اس نے جاہلیت کے زمانہ میں بہت سے ایسے کام کئے تھے جن کو عام طور پر نیک کام سمجھا جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا اس کو اس کے نیک اعمال کا بدلہ ملے گا۔ آپ نے فرمایا : اس کی زبان سے کبھی یہ نہیں نکلا کہ اللّھم اغفر لی (اے اللہ مجھے بخش دے)، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں سے اصل میں جو چیز مطلوب ہے وہ یہ کہ ان کے اندر عجز کی کیفیت پیدا ہو۔ وہ شدید طور پر یہ محسوس کرنے لگیں کہ تمام چیزوں کا مالک صرف اللہ ہے۔ اسی کے دینے سے وہ پائیں گے، وہ اگر نہ دے تو وہ کچھ بھی نہیں پا سکتے۔ اس حقیقت واقعہ کو اپنے اندر آتار لینے کا نام ایمان ہے۔ جو اس یافت کے مقام تک نہ پہنچے اس کی پوری زندگی بے قیمت ہے، حتیٰ کہ اس کا ظاہر نیک عمل بھی۔ اللہ کے یہاں وہ کام مقبول ہوتا ہے جو صرف اس کی خاطر کیا گیا ہو۔ محض انسانی ہمدردی یا خدمت خلق کے جذبہ کے تحت کیا ہوا کام اللہ کو پسند نہیں۔ کیونکہ وہ آدمی کی اپنی بڑائی کی تسکین کے لئے ہوتا ہے جب کہ خدا کی اس دنیا میں خدا کے سوا کسی کو کسی قسم کی کوئی بڑائی حاصل نہیں۔ اسلامی انقلاب اسلامی لوگوں کے ذریعہ آتا ہے غزوہ بدر کے موقع پر ایک بہادر مشرک نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ میں چلنے کی درخواست کی۔ مگر آپ نے اس کو قبول نہیں کیا۔ آپ نے اس سے پوچھا: کیا تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہو۔ اس نے کہا نہیں۔ آپ نے فرمایا: میں کسی مشرک سے مدد نہیں لیت سکتا۔ اس کے بعد اس نے کلمہ کا اقرار کر لیا اور مسلمان ہو کر غزوہ میں شرکت کی۔ کسی معاملہ میں کمی مطلوب ہوتی ہے اور کسی معاملہ میں زیادتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مبارک ہے وہ شخص جس نے اپنی زبان کی زیادتی کو روکا اور اپنے مال کی زیادتی کو خرچ کیا ۔ (طوبٰی لمن امسك الفضل من لسانه وانفق الفضل من ماله) دو آنکھیں جو عذاب سے محفوظ رہیں گی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عينان لا تمسهما النار، عين بكت من خشية الله و عين باتت تحرس في سبيل الله (دو آنکھیں ہیں جن کو جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی۔ ایک وہ آنکھ جو خدا کے ڈر سے روئے۔ دوسری وہ آنکھ جو خدا کی راہ میں چوکیداری کرتے ہوئے رات گزارے) جہاں تک عین خاشعہ کا سوال ہے، اس کا مفہوم ہمیشہ اور ہر حال میں ایک ہی رہتا ہے۔ اس کا مطلب ہمیشہ یہ رہے گا کہ آدمی کو خدا کی یاد اس طرح تڑپائے کہ اس کی آنکھوں سے آنسو نکل آئیں۔ مگر عین حارسہ کا مفہوم بہت وسیع ہے۔ اسلام کی جغرافی سرحدوں کی حفاظت کرنا جس طرح اس میں داخل ہے، اسی طرح ایک بندہ مومن کا یہ عمل بھی اس کے ذیل میں آتا ہے کہ وہ خدا کے دین پر جابلانہ حملوں کو دیکھ کر بے تاب ہو جائے اور اس کے دفاع کے لئے علمی تیاری میں اس طرح لگا ہوا ہو کہ اس کی آنکھ کتابوں کے مطالعہ میں غرق ہو ۔ کتب خانوں کی الماریوں میں اس کی آنکھ دین حق کے دفاع کے لئے مواد ڈھونڈ رہی ہو۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader