Urdu book · اسلامی زندگی

اخلاص

Urdu book, p. 66

By Maulana Wahiduddin Khan

پانے کے لئے کھونا پڑتا ہے طبرانی نے کعب بن عجرہ سے روایت کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک روز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو میں نے دیکھا کہ آپ کا چہرہ متغیر ہے، میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان کیوں میں آپ کو اس حال میں دیکھ رہا ہوں۔ آپ نے فرمایا: میرے پیٹ میں تین دن سے وہ چیز داخل نہیں ہوئی جو کسی جگر والے کے پیٹ میں داخل ہوتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نکلا تو میں نے دیکھا کہ ایک یہودی اپنے اونٹ کو پانی پلا رہا ہے۔ میں نے اس کی مزدوری کی اور ایک ڈول کے بدلے ایک کھجور کی اجرت پر اس کے لئے پانی کھینچا۔ ان کھجوروں کو لے کر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ نے پوچھا: من این لک یا کعب (اے کعب یہ کھجوریں تم کو کہاں ملیں) میں نے پورا قصہ بیان کیا۔ آپ نے فرمایا: اے کعب کیا تم مجھ سے محبت رکھتے ہو۔ میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہاں۔ آپ نے فرمایا: کوئی بندہ جب اللہ اور رسول سے محبت کرتا ہے تو محتاجی اس کی طرف اس سے بھی زیادہ تیزی سے آتی ہے جیسے سیلاب اپنے بہاؤ کی طرف (ما من عبد یحب اللہ ورسولہ الا الفقر اسرع الیہ من جریۃ السیل علی وجہہ) دنیوی مصلحتیں رکاوٹ بن جاتی ہیں نجران (یمن) کا عیسائی وفد ہجرت کے دسویں سال مدینہ آیا۔ اس کے لمبے قصہ میں یہ واقعہ بیان ہوا ہے کہ مدینہ سے واپس ہوتے ہوئے اُن کا بڑا پادری ابو حارثہ بن علقمہ خچر پر سوار تھا۔ خچر نے ایک مقام پر ٹھوکر کھائی۔ پادری زمین پر گر پڑا۔ پادری کا بھائی کرز بن علقمہ جو ساتھ تھا، اس کی زبان سے نکلا تعس الأبعد۔ (تمھاری ماں کا برا ہو) کرز بن علقمہ نے تعجب سے پوچھا کہ آپ نے ایسا کیوں کہا۔ پادری نے جواب دیا: واللہ ہم خوب جانتے ہیں کہ یہی وہ نبی منتظر ہیں جن کی بشارت ہماری کتابوں میں دی گئی تھی۔ کرز بن علقمہ نے یہ سن کر کہا: پھر آپ لوگ اس کی نبوت کا اقرار کیوں نہیں کرتے۔ پادری نے کہا: لِأَنَّ هَؤُلَاءِ الْمُلُوكَ اَعطونا اموالا کثیرۃ کیونکہ یہ بادشاہ ہم کو کافی مال دیتے ہیں اور ہماری وَاَكْرَمُونَا فَلَو آمنا بمحمد لَاَخَذُوا منا کل عزت کرتے ہیں۔ اگر ہم محمد کی نبوت کو مان لیں تو یہ ساری هذہ الاشیاء (محمد بن اسحاق بحوالہ تفسیر رازی) چیزیں وہ ہم سے واپس لے لیں گے۔ فرض سے آگے بڑھ کر قربانی دینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ بدر کے لئے نکلے۔ روحاء پہنچ کر آپ نے قیام کیا اور لوگوں کے سامنے خطبہ دیا، آپ نے پوچھا: کیف ترون (تمھاری کیا رائے ہے) پہلے حضرت ابوبکر رض نے جواب دیا۔ مگر آپ نے التفات نہیں فرمایا (فاعرض عنہ) اور دوبارہ فرمایا "تمھاری کیا رائے ہے" اب حضرت عمر رضی اللہ عنہ اٹھے۔ مگر آپ نے التفات نہیں فرمایا، اور پھر کہا "تمھاری کیا رائے ہے" اب سعد بن معاذ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page