اخلاص
Urdu book, p. 67
By Maulana Wahiduddin Khan
انصاری رضہ اٹھے۔ انھوں نے کہا: واللہ یہ کاندھے تردید نا یار سول اللہ! خدا کی قسم شاید آپ کا اشارہ ہماری طرف ہے اے خدا کے رسول ) آپ نے فرمایا " ہاں “۔ اصل یہ ہے کہ انصار نے آپ سے بیعت نثار کی تھی۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ وہ مدینہ میں آپ کی حفاظت کریں گے۔ مگر باہر (بدر) جاکر دشمنوں سے لڑنا اس بیعت میں شامل نہ تھا۔ اس لئے ان سے پوچھنا ضروری تھا۔ مقداد بن عمر رضہ نے کہا: اذْ اُلا نقول لك يا رسول الله كما قال قوم موسٰی اس وقت ہم آپ کو اُس طرح نہیں کہیں گے جس طرح لموسٰی علیہ السلام اذھب انت دربك فقاتلا موسیٰ کی قوم نے موسیٰ سے کہا تھا کہ تم اور تمھارا رب جاکر انا هھنا قاعدون (البدايه والنهايه) لڑو ہم تو یہاں بیٹھے رہیں گے) سعد بن معاذ رضہ نے کہا: ہم آپ سے عہد کر چکے ہیں کہ ہم آپ کی سنیں گے اور آپ کی اطاعت کریں گے ۔ اے خدا کے رسول ! چلئے جس چیز کا بھی آپ کا ارادہ ہو ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے، اگر آپ ہم کو حکم دیں کہ ہم اپنی سواریاں سمندر میں گھسا دیں تو ہم ان کو سمندر میں گھسا دیں گے۔ اگر آپ حکم دیں کہ ہم اپنی اونٹیوں کو برک غمار (یمن) تک لے جاتے ہوئے ان کا کلیجہ چھلنی کریں تو ہم ایسا ضرور کریں گے ۔ ہمارا ایک آدمی بھی پیچھے نہ رہے گا ۔ را دی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انصار کی اس تقریر سے بہت خوش ہوئے اور فرمایا چلو۔ اللہ نے تمھارے لئے فتح و نصرت کا فیصلہ کر دیا ہے۔ زندگی اس کے لئے ہے جو موت سے نڈر ہو جائے خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضہ نے ایک بار اسلامی سپہ سالار حضرت خالد بن ولید رضہ کو نصیحت کرتے ہوئے کہا: اے خالد، موت کے شیدائی بن جاؤ تم کو زندگی مل جائے گی (یا خالد احرص علی الموت توهب لك الحياة) دین وہی ہے جو آدمی کے اندر گہری تبدیلی پیدا کرے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : اے ابو ہریرہ، پر ہیز گار بنو تم سب سے زیادہ عبادت کرنے والے ہو جاؤ گے۔ قناعت بنو تم سب سے زیادہ شکر کرنے والے بن جاؤ گے ۔ اور لوگوں کے لئے وہی پسند کرو جو تم اپنے لئے پسند کرتے ہو تم ایمان والے ہو جاؤ گے۔ اپنے پڑوس والوں کے ساتھ بہتر پڑوسی بن کر رہو تم اسلام والے ہو جاؤ گے ۔ اور ہنسی کم کرو کیونکہ زیادہ ہنسا دلوں کو مردہ کرتا ہے (یا ابا هريرة كن ورعا تکن اعبد الناس، وكن قنعا تکن اشكر الناس، واحب للناس ما تحب لنفسك تكُن مؤمنا واحسن جوار من جاورك تكن مسلما، واقل الضحك فإن كثرة الضحك تميت القلوب، ابن ماجه) توبہ نام ہے اپنے کئے پر پچھتانے کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا التوبة الندم یعنی تو بہ یہ ہے کہ آدمی نے جو کچھ کیا ہے اس پر اس کو شرمندگی ہو۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader