تواضع
Urdu book, p. 72
By Maulana Wahiduddin Khan
(انہ لا ینبغی ان یعذب بالنار الادب النار ) (مسلم) کسی کھانے کو حقیر نہ سمجھے امام بیہقی نے حضرت ابن سے روایت کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جابر رضی اللہ عنہ کے یہاں کچھ مہمان آئے۔ آپ ان کے سامنے روٹی اور سرکہ لائے اور کہا کہ اس کو کھائیے ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ"کیاہی بہترین سالن ہے سرکہ !" نیز آپ نے فرمایا: ہلاکت ہے اس قوم کے لئے جو اس چیز کو حقیر سمجھے جو اس کے سامنے پیش کی گئی ہو ( ھلاث بالقوم ان یحتقر وا ما قدم الیہم دکنر العمال جلد ۵) کبر کا رویہ اللہ کو پسند نہیں ابو نعیم نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ میرے پاس ایک مسکین عورت آئی۔ اس کے پاس کوئی چیز تھی جو وہ مجھ کو دینا چاہتی تھی۔ مجھے اس پر رحم آیا اور میں نے اس کا ہدیہ لینا پسند نہ کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : تم اس کے ہدیہ کو قبول کرلیتیں اور اس کو کچھ بدلہ دے دیتیں : میرا خیال ہے کہ تم نے اس کو حقیر سمجھا ۔ اے عائشہ ! تواضع اختیار کرو کیوں کہ اللہ تواضع کرنے والوں کو پسند کرتا ہے اور متکبرین سے بغض رکھتا ہے۔ ( فاری انك حقیر تيھا فتواضعى يا عائشة ۔ فان اللہ يحب المتواضعين ويبغض المستكبرين (حلية الا ولیار، جلد ۴) شان ظاہر کرنے کے لئے دعوت کا اہتمام پسندیدہ نہیں احمد اور ابن المبارک نے حمید بن نعیم سے نقل کیا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہا کو کھانے کی ایک دعوت میں بلایا گیا جس کو انھوں نے قبول کرلیا ۔ جب وہ دونوں اس کے لئے جانے لگے تو عرض نے عثمان رض سے کہا : میں اس کھانے کے لئے چل رہا ہوں ۔ مگر مجھ کو پسند تھا کہ میں اس میں نہ جاتا ۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا کس لئے ۔ انھوں نے فرمایا : مجھے اندیشہ ہے کہ یہ فخرونمائش کے لئے کیا گیا ہو (خشيت ان يكون مباهاة، كنز العمال جلد ۵ صفحه ۶۷) تواضع سے بلندی پیدا ہوتی ہے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کوئی مال صدقہ دینے سے کم نہیں ہوتا ۔ معافی صرف بندہ کی عزت کو بڑھاتی ہے اور تواضع سے ہمیشہ آدمی کا درجہ بلند ہوتا ہے (ما نقصت صدقة من مال ومازاداللہ عبدا بعفوالاعزاوما تواضع احد للہ الا رفعه اللہ، مسلم) رسول نے اپنا ہاتھ چومنے کی اجازت نہ دی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دکان دار کے یہاں سے کپڑا خریدا ۔ خریداری سے فارغ ہو کر جب آپ اٹھنے لگے تو دکان دار نے بڑھ کر آپ کے ہاتھ کو بوسہ دینا چاہا آپ نے فوراً اپنا ہاتھ پیچھے ہٹالیا اور فرمایا : یہ کام وہ ہے جس کو عجمی لوگ اپنے بادشاہوں کے ساتھ کرتے ہیں۔ مگر میں بادشاہ نہیں ہوں۔ میں صرف تم میں سے ایک آدمی ہوں (ہذا افعله الاعاجم ملوكها ولست بملاك انما انا رجل منكم)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader