تواضع
Urdu book, p. 73
By Maulana Wahiduddin Khan
حق کے ساتھ تحقیر کا معاملہ کرنا کبر ہے ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کبر کا تذکرہ ہوا تو آپ نے اس کے بارے میں سخت الفاظ کہے پھر یہ آیت پڑھی : ان اللہ لا یحب کل مختال فخور (اللہ کسی خود پسند اور بڑائی کرنے والے شخص کو پسند نہیں کرتا) اس موقع پر ایک شخص نے کہا: خدا کی قسم اے خدا کے رسول میں اپنے کپڑے دھوتا ہوں تو مجھے اس کی سفیدی پسند آتی ہے ۔ مجھے اپنے جوتے کا تسمہ پسند آتا ہے۔ مجھے اپنے کوڑے کا ٹشن اچھا معلوم ہوتا ہے۔ آپ نے فرمایا: یہ کبر نہیں ۔ کبر تو یہ ہے کہ تم حق کی ناقدری کرو اور لوگوں کو حقیر جانو (انما الكبر ان تسفه الحق وتغمط الناس ، تفسیر ابن کثیر جلد ثالث، صفحه ۷) لوگوں کے درمیان امتیاز کے بغیر بیٹھنا عبد اللہ بن عمرو بن العاص کہتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں آئے۔ میں نے چمڑے کا ایک تکیہ آپ کو پیش کیا جس میں چھال بھری ہوئی تھی ۔ آپ زمین پر بیٹھ گئے اور تکیہ میرے اور آپ کے درمیان تنہا رہا (دخل علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فالقیت له وسادة من آدم حشوها ليف فجلس علی الارض وصارت الوسادة بينی وبينھ ، الادب المفرد صفحه ۱۷۱) معمولی آدمی کی بات پر بھی پوری توجہ دو ابو رافعہ تمیم بن اسید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ۔ میں اپنے وطن سے چل کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ میں پہنچا تو آپ خطبہ دے رہے تھے۔ میں نے کہا : اے خدا کے رسول، میں ایک مسافر آدمی ہوں۔ مجھے نہیں معلوم دین کیا ہے۔ میں آپ سے دین کی بابت پوچھنے آیا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف آئے اور خطبہ چھوڑ دیا۔ میرے پاس آکر آپ بیٹھ گئے اور اللہ نے جو کچھ آپ کو بتایا تھا وہ مجھ کو بتانا شروع کیا۔ مجھ کو بتانے کے بعد واپس ہوئے اور دوبارہ اپنے خطبہ کو مکمل کیا۔ (مسلم) بڑوں کے آگے چلنا گستاخی نہیں ہے انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اونٹنی تھی جس کا نام عضباء تھا۔ کوئی اپنا اونٹ اس سے آگے نہیں بڑھاتا تھا۔ ایک دن ایک دیہاتی آیا۔ وہ ایک چھوٹی اونٹنی پر سوار تھا۔ اس کی اونٹنی آپ کی اونٹنی سے آگے بڑھ گئی۔ مسلمانوں پر یہ بات شاق گزری۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا اندازہ ہوا تو آپ نے فرمایا: اللہ نے اس کا ذمہ لیا ہے کہ دنیا کی جو چیز بھی اونچی ہوگی اس کو نیچا کرے گا (حق علی اللہ ان لا یرفع ، شيئ من الدنيا الا وضعه ، بخاری) جو اپنے کو چھوٹا جانے وہی اللہ کے نزدیک بڑا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ کے لئے تواضع اختیار کرتا ہے اللہ اس کو بلند کرتا ہے۔ وہ اپنے جی میں اپنے کو حقیر سمجھتا ہے مگر لوگوں کے نزدیک وہ بڑا ہوتا ہے (مختصر تفسیر ابن کثیر، جلد ثانی، صفحه ۷۴۳)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader