Urdu book · اسلامی زندگی

تواضع

Urdu book, p. 74

By Maulana Wahiduddin Khan

خود پسندی خدا کو پسند نہیں حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ نیا کرتا پہنا۔ میں گھر میں چل رہی تھی اور کپڑے کی طرف دیکھتی جاتی تھی۔ اتنے میں میرے والد ابو بکر میرے یہاں آئے۔ انھوں نے پوچھا تم کیا دیکھ رہی ہو، خدا تمھاری طرف دیکھنے والا نہیں۔ میں نے کہا، کیوں، ۔ انھوں نے کہا۔ "کیا تم کو نہیں معلوم کہ بندے کے اندر جب زینت دنیا کی وجہ سے عجب (خود بینی) پیدا ہوجاتی ہے تو اس کا خدا اس سے ناراض ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ اس زینت کو چھوڑ دے۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ اس کے بعد میں نے وہ کپڑا اتارا اور اس کو صدقہ کر دیا۔ حضرت ابو بکر نے کہا امید ہے کہ یہ تمھارے لئے کفارہ بن جائے (کنز العمال جلد ۴) درمیانی انداز کا کپڑا پہنو حضرت وقدان تابعی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر سے سنا۔ ان سے ایک آدمی نے دریافت کیا تھا کہ میں کپڑوں میں سے کون سا کپڑا پہنوں۔ انھوں نے جواب دیا کہ ایسا کپڑا پہنو کہ نادان لوگ تمھاری تحقیر نہ کریں اور سنجیدہ لوگ تم کو سخت سست نہ کہیں ۔ آدمی نے پوچھا کہ وہ کپڑا کون سا ہے۔ انھوں نے جواب دیا وہ کپڑا جس کی قیمت ۵ درہم اور دس درہم کے بیچ میں ہو۔ (سمعت ابن عمر وسأله رجل ما الیسر من الثیاب؟ قال: مالایز دریک فیه السفهاء ولا یعتیک به الحطماء، قال : ماهو؟ قال : مابین الخمسة الى العشرين درهما، حلیة الاولیاء لابی نعیم) دستر خوان پر اپنے قریب کی پلیٹ سے کھانا حضرت عمروبن ابی سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا کھایا۔ تو میں پیالہ کے ہر طرف سے ہاتھ بڑھا کر گوشت لینے لگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر کہا جو تمھارے قریب ہے اس میں سے کھاؤ (كل مما یلیك، كنزا عمال جلد ۸) اللہ اپنے نبی سے کس چیز پر راضی ہوا حضرت عطار خراسانی تابعی کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے گھر دیکھے ہیں۔ وہ کھجور کی ٹہنیوں کے تھے۔ ان کے دروازوں پر ٹھاٹ کے پردے پڑے ہوئے تھے جو کالے بال سے تیار کیا جاتا تھا۔ اس کے بعد خلیفہ ولید بن عبد الملک اموی کی طرف سے مدینہ کے حاکم کے پاس خط آیا جس میں مسجد نبوی کی نئی تعمیر کا حکم تھا اور یہ ہدایت دی گئی تھی کہ ازواج رسول کے حجرے توڑ کر مسجد نبوی میں داخل کردئے جائیں۔ اس حکم کو معلوم کرکے مدینہ کے بہت سے لوگ روپڑے ۔ حضرت ابو امامہ انصاری نے کہا کاش کہ یہ حجرے اسی طرح چھوڑ دئے جاتے اور گرائے نہ جاتے تاکہ لوگ بڑی بڑی عمارتیں بنانے سے رک جاتے۔ اور وہ درکہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page