Urdu book · اسلامی زندگی

تواضع

Urdu book, p. 75

By Maulana Wahiduddin Khan

لیے کہ اللہ اپنے نبی سے کس چیز پر راضی ہوا حالانکہ دنیا کے خزانوں کی چابیاں اس کے ہاتھ میں تھیں ریقھا تركت فلم تهدم حتى يقصر الناس عن البناء، دير و ما رضى الله لنبيه ومفاتيح خزائن الدنيا بيده ، طبقات ابن سعد جلد ۸) بیٹی کے نکاح کے لئے غریب دیندار کو پسند کرنا حضرت ابوالدردار انصاری کی ایک لائق لڑکی تھی جس کا نام دردار تھا۔ یزید ابن معاویہ نے دردار سے نکاح کا پیغام دیا۔ حضرت ابو الدردار نے انکار کر دیا۔ اس کے بعد ایک عام مسلمان نے دردار سے نکاح کا پیغام دیا۔ حضرت ابوالدردار نے اس کو قبول کر لیا اور اپنی بیٹی کا اس سے نکاح کر دیا۔ لوگوں میں اس بات کا چرچا ہوا کہ امیر معاویہ کے لڑکے کے ابو الدردار کے یہاں پیغام دیا مگر اس کو انھوں نے رد کر دیا اور کمزور مسلمانوں میں سے ایک شخص نے پیغام دیا تو اس کو انھوں نے قبول کر لیا اور اس کے ساتھ اپنی لڑکی بیاہ دی۔ حضرت ابو الدردار نے اس کو سنا تو کہا۔ اس رشتہ میں میں نے دردار کا لحاظ کیا۔ تمھارا کیا خیال ہے۔ جب دردار کے سرہا نے غلاموں کی قطار کھڑی ہوتی اور دہ اپنے آپ کو ایسے گھر میں پاتی جس کو دیکھ کر آنکھیں چکا چوند ہوں تو ایسے وقت میں اس کا دین کہاں رہ جاتا (این دینها منها يومئذ ، حلية الاولیاء لابی نعیم) سکھ کا راز قناعت ہے حضرت سعد نے اپنے بیٹے سے کہا : اے میرے بیٹے! جب تم مال طلب کرو تو اس کو قناعت کے ساتھ طلب کرو۔ کیونکہ جس کے اندر قناعت نہ ہو مال اس کے لئے کافی نہیں ہو سکتا (اذا طلبت الغناء فاطلبه بالقناعة فانه من لم يكن له قناعة لم يغنه مال ، كنز العمال جلد ۲) ہر آدمی یا جنت کی طرف جارہا ہے یا دوزخ کی طرف مسلم بن بشیر کہتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ اپنی بیماری میں روئے۔ ان سے پوچھا گیا کہ اے ابو ہریرہ کیا چیز آپ کو رلا رہی ہے۔ انھوں نے کہا: میں تمھاری اس دنیا کے لئے نہیں روتا۔ بلکہ میں تو اس لئے روتا ہوں کہ میرا سفر لمبا ہے اور زاد راہ کم ہے۔ میں نے ایک ایسے ٹیلہ پر صبح کی ہے جو جنت یا دوزخ کی طرف اتر رہا ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ مجھے ان دونوں میں سے کس طرف چلایا جائے گا (بکی ابو ہریرہ رضی اللہ عنه في مرضه فقيل له ما يبكيك يا ابا هريرة ، قال اما انى لا ابكي على دنیاكم هذه ولكني ابكي لبعد سفري وقلة زادي - اصبحت في صعود مهبطة علی جنة نار فلا ادري الى ايهما يسلك لى، طبقات ابن سعد جلد ۳)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page