آداب کلام
Urdu book, p. 92
By Maulana Wahiduddin Khan
اس ماحول میں کوئی خیر نہیں جہاں احتساب پر پابندی ہو حضرت ابو بکرہ بیمار ہوئے تو ان کے لڑکے چیخ پڑے، حضرت ابو بکرہ نے کہا کہ مجھ پر چلاؤ نہیں۔ خدا کی قسم کوئی جان جو نکالی جانے والی ہو اس کا نکالا جانا مجھے ابو بکرہ کی جان نکالے جانے سے زیادہ پسند نہیں۔ یہ سن کر لوگ گھبرا گئے۔ ان کے لڑکوں نے کہا اے باپ کیوں۔ انھوں نے کہا: میں ڈرتا ہوں کہ کہیں مجھ پر وہ زمانہ آجاۓ جب کہ میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر نہ کر سکوں اور اس زمانہ میں کوئی خیر نہ ہوگا (انی اخشى ان ادرک زماناً لا استطيع ان آمر بالمعروف ولا انهى عن منكر ولا خير يومئذ، طبرانی) خدا کا ڈر آدمی کی زبان کو روک دیتا ہے خلیفہ ثانی عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا۔ انھوں نے اللہ کی حمد و ثنا کی اور پھر کہا کہ عورتوں کی مہر میں زیادتی نہ کرو۔ اور جب بھی مجھے کسی کے بارے میں یہ اطلاع ملے گی کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر (تقریباً ۴۰۰ درہم) سے زیادہ مہر مقرر کیا ہے تو میں اس زیادتی کو لے کر بیت المال میں جمع کر دوں گا۔ اس کے بعد وہ منیر سے اترے تو قریش کی ایک عورت ان کے سامنے آئی۔ اس نے کہا: اے امیر المومنین، خدا کی کتاب زیادہ قابل اتباع ہے یا آپ کا قول (کتاب اللہ احق ان يتبع ام قولك) حضرت عمر نے کہا کہ اللہ کی کتاب۔ مگر یہ بات تو نے کس لئے کہی۔ عورت نے کہا۔ آپ نے ابھی لوگوں کو منع کیا ہے کہ وہ عورتوں کی مہر زیادہ نہ باندھیں۔ حالانکہ اللہ اپنی کتاب میں فرماتا ہے: واتيتم احد هن قنطاراً فلا تاخذن منه شيئاً۔ یعنی اگر تم نے ان میں سے کسی کو ڈھیر سا مال دیا ہے تو اس میں سے کچھ واپس نہ لو۔ حضرت عمر نے کہا ہر شخص عمر سے زیادہ عالم ہے (کل احد افقه من عمر) اس جملہ کو تین بار فرمایا۔ اس کے بعد دو بارہ منبر کی طرف لوٹے اور کہا میں نے تم کو عورتوں کا مہر زیادہ باندھنے سے منع کیا تھا اب ہر آدمی کو اختیار ہے کہ اپنے مال میں جو چاہے کرے۔ حضرت عمر نے خرید کہا کہ مہر اگر آخرت میں فخر اور بڑائی کی چیز ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹیاں اور آپ کی عورتیں اس کی زیادہ مستحق تھیں ولو كان المهر سناء ورفعة في الآخرة كان بنات النبي صلى الله عليه وسلم ونساءة احق بذلك، كنز الاعمال جلد ۸) نصیحت کا گوارا کرنا اسلامیست کی پہچان ہے عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے کہا : بے شک تم خیر پر رہو گے جب تک تم برائیوں کو پہچانو گے اور جب تک تم بھلائیوں کا انکار نہ کرو گے، اور جب تک تمھار اعالم تم میں کھڑا ہو کر تم کو نصیحت کرے گا اور اس کو ہلکا نہ سمجھا جائے (انكم لن تبرخوا بخير ما دمتم تعرفون ما كنتم تنكرون ولا تنكرون ما كنتم تعرفون وما مقام عالمكم فيكم بينكم غير مستخف ، كنز الاعمال جلد ۲)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader