Urdu book · اظہارِ دین

یہ اخلاقی بحران کیوں

Urdu book, p. 100

By Maulana Wahiduddin Khan

حیثیت رکھتا ہوں ۔ ایسا انسان خدا کو کبیر مان کر ، اپنے آپ کو اس کے مقابلے میں صغیر بنا لیتا ہے ۔ اس سے انسان کے اندر تواضع (modesty) کی نفسیات پیدا ہوتی ہے ۔ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ عجز اور تواضع کا احساس ہی تمام اعلیٰ اخلاقی اقدار کا سرچشمہ ہے ۔ اس کے برعکس ، معاملہ اُس انسان کا ہے جو خدا کو حذف کر کے سوچے ۔ ایسے انسان کے پاس تقابل کے لیے صرف دوسرے انسان ہوتے ہیں ۔ فطری طور پر اس کے اندر یہ احساس ابھرتا ہے کہ کوئی مجھ سے بڑا نہیں ، دوسرے جو لوگ ہیں ، وہ یا تو میرے برابر ہیں ، یا مجھ سے چھوٹے ہیں۔ ہر آدمی کے اندر کوئی نہ کوئی خاص صفت ہوتی ہے ، اس لیے ہر آدمی کو یہ موقع مل جاتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو بڑا سمجھے ۔ وہ اس کی ضرورت نہ سمجھے کہ اُس کو کسی کے آگے جھکنا چاہیے ۔ اس قسم کا احساس بلا شبہ تمام اخلاقی اقدار کی نفی کے ہم معنی ہے ۔ مثال کے طور پر برطانیہ کا مدبّر لارڈ کُر زن (وفات 1925) غیر معمولی ذہین آدمی تھا۔ اس کا مطالعہ بھی کافی وسیع تھا۔ چنانچہ جب وہ لوگوں سے ملتا تو اس کو محسوس ہوتا کہ دوسرے لوگ اُس سے کم ہیں۔ اس کے اندر اپنے بارے میں برتری کا احساس پیدا ہو گیا۔ لارڈ کُر زن کے ایک سوانح نگار نے لکھا ہے کہ — اُس کے معاصرین میں کوئی اس کے برابر کا نہ تھا : He had no equal اس احساس برتری کی بنا پر لارڈ کُر زن کا پورا رویّہ غیر متوازن بن گیا۔ وہ دوسرے تمام لوگوں کے لیے منفی احساس میں جینے لگا ، یہاں تک کہ سخت مایوسی کے عالم میں وہ مرگیا ۔ یہی کم وبیش اُن تمام انسانوں کا حال ہوتا ہے جو خدا کو حذف کر کے اپنا فکر بنائیں ۔ جن کی اخلاقیات کا سرچشمہ خدا نہ ہو ، وہ اپنے آپ میں جئیں گے اور اپنے آپ ہی میں مر جائیں گے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page