دور شرک، دور الحاد
Urdu book, p. 101
By Maulana Wahiduddin Khan
دورِ شرک ، دورِ الحاد مذہبی نقطہ نظر سے تاریخ کے دو دور ہیں — دورِ شرک ، دورِ الحاد۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور سے پہلے ہزاروں سال تک دنیا میں شرک (polythiesm) کا غلبہ تھا۔ موجودہ زمانہ عمومی تقسیم کے اعتبار سے، الحاد (atheism) کا زمانہ ہے۔ تاہم الحاد انکارِ مذہب کا نظریہ ہے، جب کہ سیکولرزم مذہب کے بارے میں عملاً لا طرف داری کا نظریہ۔ دورِ شرک اور دورِ الحاد کے درمیان ایک چیز مشترک ہے اور وہی چیز ہے جس کو قرآن کی درج ذیل آیت میں 'خرص' کہا گیا ہے: وَقَالُوا لَوْ شَاءَ الرَّحْمَنُ مَا عَبَدْنُهُمْ مَّا لَهُمْ بِذَلِكَ مِنْ عِلْمٍ ۚ إِنْ هُمْ إِلَّا يَخْرُصُونَ (43:20)۔ یعنی، وہ کہتے ہیں کہ اگر رحمان چاہتا تو ہم اُن کی عبادت نہ کرتے۔ اُن کو اس کا کوئی علم نہیں، وہ محض اٹکل سے بات کر رہے ہیں۔ 'خرص' کا لفظی مطلب ہے اٹکل سے بات کرنا۔ اس سے مراد دراصل چیزوں کی قیاسی تعبیر (speculative interpretation) ہے۔ قدیم زمانے میں مشرکین نے یہی غلطی کی۔ انھوں نے یہ کیا کہ فطرت کا جو ظاہر اُن کو بڑا (great) نظر آیا، اس کو انھوں نے الہ (god) کا درجہ دے دیا۔ یہی چیز ہے جس کی طرف قرآن میں ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے: هُذَا رَبِّي هُذَا أَكْبَرُ (6:78)۔ یعنی، یہ میرا رب ہے۔ یہ سب سے بڑا ہے۔ موجودہ زمانے میں سائنس کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ اُس نے اس قدیم متھ (myth) کو توڑ دیا۔ سائنس نے اپنے تجربات کے ذریعے ثابت کیا کہ جن چیزوں کو انسان نے خدا سمجھ لیا تھا، اُن کے اندر کوئی خدائیت (divinity) نہیں ہے۔ تمام چیزیں صرف فطرت (nature) کے اجزا ہیں۔ بہ الفاظ دیگر، کائنات کی تمام چیزیں صرف مخلوق ہیں، وہ کسی بھی درجے میں خالق نہیں۔ مشرکانہ کلچر کے نظریاتی خاتمے کا آخری دن 20 جولائی 1969 تھا، جب کہ امریکی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader