Urdu book · اظہارِ دین

اظہارِ دین

Urdu book, p. 122

By Maulana Wahiduddin Khan

سائنسی مقدمات (scientific premises) کے دور میں ہیں۔ آج کی اسلامی عقلیات وہ ہوگی جس میں سائنسی مقدمات کے ذریعے نتائج اخذ کیے گئے ہوں۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ قرآن کی سورۃ البقرہ میں قانونِ شہادت کو بتاتے ہوئے دو عورتوں کو ایک مرد کے برابر قرار دیا گیا ہے (2:282)۔ قدیم زمانے میں اس فرق کا سبب یہ سمجھا جاتا تھا کہ مرد کا تعلق صنفِ قوی سے ہے اور عورت کا تعلق صنفِ ضعیف سے۔ مگر موجودہ زمانے میں جدید تحقیقات نے ہم کو یہ موقع دے دیا ہے کہ ہم اس فرق کی توجیہہ خالص سائنسی بنیاد پر بیان کر سکیں۔ عقل کا مسئلہ عقل (reason) کیا ہے۔ عقل خالق کا ایک قیمتی عطیہ ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے افضل چیز جو پیدا کی، وہ عقل ہے: مَا خَلَقَ اللَّهُ خَلْقًا أَكْرَمَ عَلَيْهِ مِنَ الْعَقْلِ (المفردات في غريب القرآن للاصفهانی، صفحه 578)۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کے تمام کمالات کا انحصار عقل پر اور عقل کے استعمال پر ہے، عقل کے بغیر کوئی بھی انسانی ترقی ممکن نہیں۔ عقل نہ ہو تو انسان پتھر کے ایک اسٹیچو کی مانند ہو جائے گا۔ وہ نہ حق کو سمجھ سکے گا اور نہ باطل کو باطل۔ عقل بذاتِ خود معیار (criterion) نہیں ہے۔ عقل، فہم و ادراک کی صلاحیت (ability) ہے۔ عقل کی حیثیت آلہ یا فیکلٹی (faculty) کی ہے، عقل کی حیثیت مستقل بالذات حج کی نہیں۔ عقل، حقائق سے نتیجہ اخذ کرنے کی استعداد کا نام ہے: Reason: The intellectual faculty by which conclusions are drawn from premises. عقل (reason) اور وحی (revelation) کو ایک دوسرے کا حریف بتانا بلا شبہ ایک غلطی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وحی ایک مستقل ذریعہ علم ہے، جب کہ عقل بذاتِ خود کوئی ذریعہ علم نہیں ۔ خود وحی کی صحت پر جب کوئی شخص یقین کرتا ہے تو وہ بھی یہی کرتا ہے کہ وہ اپنی خدا داد عقل کو استعمال کر کے اُس پر غور کرتا ہے اور پھر یقین کے درجے میں پہنچ کر وہ وحی کی صداقت کو دریافت کرتا ہے۔ اس اعتبار سے یہ کہنا درست ہوگا کہ عقل، وحی کی مددگار ہے، نہ کہ وحی کی مَدِ مقابل۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page