عقل کا مسئلہ
Urdu book, p. 123
By Maulana Wahiduddin Khan
عقل، خالق کی دی ہوئی ایک فطری صلاحیت ہے، عقل کسی کی ذاتی ایجاد نہیں۔ اس معاملے میں غلطی کا آغاز یہاں سے ہوا کہ دوسری تمام چیزوں کی طرح عقل کے معاملے میں بھی کچھ لوگوں نے عقل کا غلو آمیز تصور (extreme version) پیش کیا۔ انھوں نے انتہا پسندی کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے خود ساختہ طور پر یہ دعویٰ کیا کہ عقل بذاتِ خود حصول علم کا معیاری ذریعہ ہے۔ مذہبی طبقے نے اس تصورِ عقل کو درست سمجھ لیا اور وہ غیر ضروری طور پر عقل یا عقلی غور و فکر کو مذہب کا مخالف سمجھنے لگے اور وہ اس طرح کی غیر علمی باتیں کرنے لگے کہ عقل کا دائرہ الگ ہے اور وحی کا دائرہ الگ۔ عقل کا دائرہ وہاں پر ختم ہو جاتا ہے، جہاں سے وحی کا آغاز ہوتا ہے، وغیرہ۔ اصل یہ ہے کہ عقل الگ ہے اور عقل پرستی الگ۔ قرآن میں ’عقل‘ کا مادہ (root) تقریباً 50 بار استعمال ہوا ہے۔ قرآن میں بار بار عقل کا حوالہ دیتے ہوئے یہ کہا گیا ہے کہ اپنی عقل کے ذریعے وحی کی صداقت کو دریافت کرو۔ مثال کے طور پر قرآن کی سورہ یوسف میں یہ آیت آئی ہے: اِنَّا اَنْزَلْنٰهُ قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ (12:2)۔ یعنی، ہم نے اس کتاب کو عربی بنا کر اتارا ہے، تاکہ تم سمجھو: We have sent down the Quran in Arabic, so that you may understand (by applying reason). اسی طرح قرآن میں بتایا گیا ہے کہ تم اپنی عقل کو استعمال کرتے ہوئے نبوت کی صداقت کو دریافت کرو (10:16)، وغیرہ۔ انسان کو فطری طور پر مختلف صلاحیتیں دی گئی ہیں۔ اُنھیں میں سے ایک صلاحیت، عقل ہے۔ مثلاً پاؤں کے اندر چلنے کی صلاحیت، ہاتھ کے اندر پکڑنے کی صلاحیت، آنکھ کے اندر دیکھنے کی صلاحیت، کان کے اندر سننے کی صلاحیت، وغیرہ۔ اسی طرح انسان کو عقل دی گئی ہے جو سوچنے اور تجزیہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اسی کے ساتھ انسان کو کامل آزادی دی گئی ہے۔ انسان کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنی آزادی کا صحیح استعمال کرے یا وہ اُس کا غلط استعمال کرے، اور یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ کان اور آنکھ کا صحیح استعمال بھی ہے اور اس کا غلط استعمال بھی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader