دور سائنس اور مذہب
Urdu book, p. 128
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ بات ایک حدیثِ رسول میں ان الفاظ میں ملتی ہے: مَا مِنْ الْأَنْبِيَاءِ نَبِيٌّ إِلَّا أُعْطِيَ مِنْ الْآيَاتِ مَا مِثْلُهُ آمَنَ عَلَيْهِ الْبَشَرُ، وَإِنَّمَا كَانَ الَّذِي أُوتِيتُهُ وَحْيًا أَوْحَاهُ اللَّهُ إِلَيَّ، فَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَكْثَرَهُمْ تَابِعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 4981)۔ یعنی، نبیوں میں سے ہر نبی کو ایسی نشانیاں دی گئیں، جن کو اُس زمانے کے لوگ مانتے تھے۔ اور مجھ کو وحی (قرآن) کا معجزہ دیا گیا۔ اس لیے میں امید کرتا ہوں کہ قیامت میں مجھ پر ایمان لانے والوں کی تعداد سب سے زیادہ ہوگی۔ اصل یہ ہے کہ قدیم زمانے میں علم انسانی کا ارتقا بہت کم ہوا تھا، اس لیے یہ ممکن نہ تھا کہ خود علم انسانی کے مسلّمات کے حوالے سے دین حق کی صداقت کو مدلل کیا جائے۔ اس لیے قدیم زمانے میں پیغمبروں کے ذریعے خارق عادت معجزات دکھائے گئے۔ یہ معجزات معاصر انسان کے مانوس دائرے کے اعتبار سے ہوتے تھے۔ مگر قرآن کے بعد دنیا میں جو انقلاب آیا، اس کے بعد بتدریج ایسا ہوا کہ علم انسانی میں غیر معمولی ترقی ہوئی۔ اب یہ ممکن ہو گیا کہ خود علم انسانی کے مسلّمات کی سطح پر دین حق کو مدلل کر کے پیش کیا جاسکے۔ دونوں دور میں ایک فرق یہ بھی ہے کہ معجزہ معاصر انسان کو اپنے عجز کا تجربہ کراتا تھا، لیکن اُس میں یہ پہلو شامل نہ تھا کہ مدعو کو خود اپنے مسلّمات کی سطح پر دین حق کی دلیل نظر آنے لگے۔ بعد کے زمانے میں جب علمى مسلمات کی سطح پر استدلال ممکن ہو گیا تو فطری طور پر یہ ہوگا کہ اس قسم کا استدلال مقابلهٔ ایک عمومی اور عالمی استدلال بن جائے گا۔ اس طرح یہ ممکن ہو جائے گا کہ بعد کے زمانے میں ہر انسانی گروہ پیغام نبوت کی اہمیت کو سمجھے اور خود اپنے مسلّمات کی روشنی میں اُس پر یقین کر سکے۔ اس کا ایک فائدہ فطری طور پر یہ ہوگا کہ بعد کے زمانے میں اس پیغام کو ماننے والوں کی تعداد میں اضافے کا امکان بھی زیادہ بڑھ جائے گا۔ قدیم معجزاتی دلیل اور جدید سائنسی دلیل دونوں میں یہ بات مشترک ہے کہ دونوں ہی استنباط (inference) کی سطح پر دینی عقائد کی دلیل فراہم کرتے ہیں۔ قدیم زمانے میں جب ایک پیغمبر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader