دور سائنس اور مذہب
Urdu book, p. 129
By Maulana Wahiduddin Khan
حسّی معجزہ دکھاتا تھا تو ایسا نہیں ہوتا تھا کہ معجزہ ایک آئینہ ہو، جس میں پیغمبر کا اصل دعویٰ مشاہداتی طور پر نظر آنے لگے۔ جو کچھ ہوتا تھا، وہ یہ کہ معجزہ دیکھ کر مدعویٰ استنباط کر سکتا تھا کہ جب یہ شخص ایک ایسا واقعہ کر رہا ہے جس پر دوسرے انسان قادر نہیں، تو ضرور اس شخص کو خدا کی نصرت حاصل ہے۔ یہی معاملہ سائنسی دلیل کا بھی ہے۔ سائنسی دلیل میں ایسا نہیں ہوتا کہ پیش کردہ دلیل براہ راست معنوں میں اصل دعوے کا مظاہراتی ثبوت بن جائے۔ یہاں بھی ایسا ہی ہوتا ہے کہ پیش کردہ دلیل بالواسطہ معنوں میں یہ موقع دیتی ہے کہ استنباطی طور پر وہ اصل دعوے کو قابل فہم اور قابل یقین بنادے۔ تاہم جدید سائنسی دلیل میں ایک مزید پہلو موجود ہے، جس کی بنا پر یہ ہوتا ہے کہ پیش کردہ دلیل بالواسطہ معنوں میں یہ موقع دیتی ہے کہ استنباطی طور پر وہ اصل دعوے کو قابل فہم اور قابل یقین بنادے۔ تاہم جدید سائنسی دلیل میں ایک مزید پہلو موجود ہے، جس کی بنا پر اس کو آرگومینٹ پلس (argument plus) کہا جا سکتا ہے، وہ یہ کہ جدید سائنسی دلیل خود مدعو کے عقلی مسلّمہ (rational axiom) کی بنیاد پر قائم ہوتی ہے۔ یہ فرق اُس جدید علم کی بنا پر پیدا ہوا ہے، جس کو نیوکلیئر سائنس کہا جاتا ہے۔ قدیم فزیکل سائنس، عالم کبیر (macro world) کی سطح پر مبنی تھی۔ مگر بیسویں صدی میں اس کے اندر ترقی ہوئی، اور ایک نئی سائنس وجود میں آئی جس کو نیوکلیئر سائنس کہا جاتا ہے۔ نیوکلیئر سائنس کے تحت، انسان اِس قابل ہو گیا کہ وہ عالم صغیر (micro world) تک رسائی حاصل کر سکے، جب کہ اس سے پہلے وہ صرف عالم کبیر تک محدود تھا۔ اِس وقت یہ سمجھا جاتا تھا کہ ہر حقیقی چیز اپنا ایک مادی جسم رکھتی ہے جس کو ناپا اور تولا جا سکے، لیکن عالم صغیر کی دریافت نے یہ صورتِ حال بدل دی۔ اب یہ معلوم ہوا کہ چیزیں اپنے آخری تجزیے میں اتنا زیادہ "صغیر" ہو جاتی ہیں کہ اُن کو صرف امکانی لہروں (waves of probability) کا نام دیا جا سکتا ہے۔ عالم صغیر کے بارے میں اِس نئی دریافت نے علم میں جو انقلاب پیدا کیا، اس کا ایک پہلو یہ تھا کہ علمی استدلال کا معیار بدل گیا۔ اب یہ معلوم ہوا کہ استنباطی استدلال بھی اتنا ہی معقول استدلال

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader