اظہارِ دین
Urdu book, p. 130
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے، جتنا کہ غیر استنباطی استدلال یا براہِ راست استدلال ۔ کیوں کہ علم کا دریا جس مقام پر پہنچا تھا، وہاں براہِ راست استدلال کا طریقہ قابلِ عمل ہی نہ رہا ۔ اب لازم ہو گیا کہ استنباطی استدلال کو بھی معقول استدلال کا درجہ دیا جائے، تا کہ نئے دریافت کردہ عالمِ صغیر کے قوانین کو مرتب کیا جا سکے ۔ علمِ انسانی میں اِس ارتقا کے بعد یہ ممکن ہو گیا ہے کہ مذہبی عقائد کو عین اُسی سطح پر ثابت شدہ بنایا جا سکے، جِس سطح پر مادی دنیا کی چیزوں کو ثابت شدہ بنایا جاتا ہے ۔ مثلاً یہ کہنا کہ ــ دنیا میں ڈیزائن کا وجود یہ ثابت کرتا ہے کہ یہاں ایک ڈیزائنر موجود ہے، اپنی نوعیت کے اعتبار سے ویسا ہی ایک معقول استدلال ہے، جیسا کہ مادی دنیا کے بارے میں سائنسی استدلالات۔ چند مثالیں یہاں ہم اِس نوعیت کی چند مثالیں درج کریں گے ۔ اِن مثالوں سے اندازہ ہوگا کہ کس طرح جدید سائنس، قدیم طرز کے معجزات کا بدل فراہم کر رہی ہے ۔ کس طرح اب یہ ممکن ہو گیا ہے کہ دینی حقائق، جو پچھلے زمانے میں خارقِ عادت معجزات کی سطح پر پیغمبر کے معاصرین کے سامنے پیش کیے جاتے تھے، اُن کو اب خود علمِ انسانی کے معروف مسلمات کی بنیاد پر پیش کیا جا سکے ۔ گویا کہ اب جدید علمِ کلام نے قدیم معجزے کی جگہ لے لی ہے۔ آج کے ایک داعی کو اپنی دعوت کے حق میں معجزہ دکھانا نہیں ہے، بلکہ اُس کے لیے یہ ممکن ہو گیا ہے کہ وہ وقت کے علمی مسلمات کی روشنی میں اپنی دعوت کو مدلل کرے ۔ وہ جدید ذہن کو خود اُس معیار پر ایڈریس کر سکے جس کا اعتراف وہ پہلے سے کیے ہوئے ہے۔ 1۔ مذہب کے اعتبار سے سب سے پہلا مسئلہ وجودِ خداوندی کے اثبات کا ہے ۔ اِس معاملے میں علمِ انسانی میں ایک نیا ارتقائی واقعہ وجود میں آیا ہے۔ پہلے، خدا کو صرف عقیدے کا ایک مسئلہ سمجھا جاتا تھا۔ اب وہ انسانی سائنس کے دائرے کی چیز بن چکا ہے۔ یہ کہنا درست ہوگا کہ جدید سائنس نے خدا کے وجود کو ایک سائنسی دلیل کی حیثیت دے دی ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، سائنس کے مطالعے کا موضوع خدا یا خالق کا وجود نہیں ہے۔ سائنس کا موضوع نیچر یا تخلیق (creation) کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader