Urdu book · اظہارِ دین

چند مثالیں

Urdu book, p. 131

By Maulana Wahiduddin Khan

مطالعہ ہے۔ سائنسی مطالعے کے ابتدائی دور میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ تمام چیزیں معلوم اسباب کے تحت وجود میں آتی ہیں، اِس لیے کسی مسبّب کو مطالعے کا موضوع بنانے کی ضرورت نہیں۔ لیکن بعد کے سائنسی مطالعے نے اِس نظریے کو بے بنیاد ثابت کر دیا۔ سائنس کے تفصیلی مطالعے کے بعد یہ معلوم ہوا کہ نیچر یا کائنات میں ہر وقت ان گنت واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ ہر واقعے میں نیچر کے سامنے بے شمار انتخابات (options) ہوتے ہیں، لیکن نیچر ہر موقع پر اُسی انتخاب کو لیتی ہے جو سب سے زیادہ با معنی ہو۔ اِس مطالعے نے سائنس دانوں کو یہ ماننے پر مجبور کیا ہے کہ اس کائنات کے پیچھے ایک ذہین دماغ (intelligent mind) یا ریاضیاتی دماغ (mathematical mind) ہے۔ نیچر کے پیچھے ایک برتر ذہانت کی موجودگی کو مانے بغیر اس کی توجیہہ ممکن نہیں۔ اِس معاملے کو ایک سائنس داں نے اِن الفاظ میں بیان کیا ہے— کائنات کا مادہ ایک ذہین مادہ ہے: The stuff of the world is mind-stuff. 2۔ قدیم زمانے میں یہ کہا جاتا تھا کہ خدا کو ماننے کی صورت میں اُس کو ابدی ماننا پڑتا ہے، جب کہ ہمیں اس کا براہ راست کوئی علم نہیں۔ مگر کائنات ہمارے لیے ایک معلوم اور مشہود چیز کی حیثیت رکھتی ہے، پھر خدا کو ابدی ماننے کے بجائے کیوں نہ خود کائنات کو ابدی مان لیا جائے۔ لیکن بگ بینگ (Big Bang) کی دریافت کے بعد اس قسم کے عقیدے کو ماننا نا ممکن ہو گیا ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، 2006 کا فزکس نوبل پرائز دو امریکی پروفیسروں کو مشترک طور پر دیا گیا۔ یہ دونوں پروفیسر بگ بینگ کے سائنسی نظریے پر کام کر رہے تھے اور اُس پر انھوں نے ایک کتاب چھاپی تھی۔ دونوں پروفیسروں کے نام یہ ہیں: John C. Mather (60), George F. Smoot (61) امریکا کے ادارہ ناسا نے 1989 میں ایک راکٹ بیرونی خلا میں بھیجا تھا۔ اس کا کام یہ تھا کہ وہ بگ بینگ دھماکے سے نکلنے والے ریڈی ایشن (Cosmic Background Radiation)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page