چند مثالیں
Urdu book, p. 133
By Maulana Wahiduddin Khan
جاتی ہیں۔ اس قسم کی مثالوں میں سے ایک مثال وہ ہے جس کو موجودہ زمانے کی فلکیاتی اصطلاح میں بلیک ہول (Black Hole) کہا جاتا ہے۔ بلیک ہول کا نظریہ تقدیر اور تدبیر، یا انسانی آزادی اور خدائی جبر کے درمیان نازک تعلق کو قابل فہم بنا رہا ہے۔ فلکیات (astronomy) کے جرمن عالم کارل (Karl Schwarzschild) نے 1907 میں اپنے قیاس کے تحت یہ پیشین گوئی کی کہ خلا میں ایسے بڑے بڑے ستارے ہوسکتے ہیں جن کی قوت کشش اتنی زیادہ ہو کہ وہ اپنی روشنی کو بھی روکے ہوئے ہوں اور ان کی روشنی باہر نہ آسکتی ہو ۔ چوں کہ انسان کسی چیز کو صرف روشنی کی مدد سے دیکھ سکتا ہے ، اس لیے یہ عظیم ستارے خلا میں موجود ہونے کے باوجود انسان کے لیے ناقابل مشاہدہ ہیں۔ اس نظریے پر تحقیق جاری رہی، یہاں تک کہ فلکیات دانوں نے ایسے ستاروں کی امکانی موجودگی پر اتفاق کر لیا، اور ایسے ستاروں کا نام بلیک ہول‘ رکھا گیا۔ الہیات کے میدان میں قدیم زمانے سے یہ بحث جاری ہے کہ اس دنیا میں انسان آزاد ہے، یا مجبور۔ بظاہر انسان اس دنیا میں اپنے آپ کو آزاد پاتا ہے، لیکن جب خدا قادر مطلق ہے تو یہ بات ناقابل قیاس معلوم ہوتی ہے کہ خدا کی قدرت کاملہ کے درمیان انسان کو خود مختاری حاصل ہو۔ اس تصور پر بہت زیادہ لکھا گیا ہے۔ اردو شاعر میر تقی میر (وفات 1810) نے اسی بات کو اس طرح نظم کیا ہے: ناحق ہم مجبوروں پر، یہ تہمت ہے مختاری کی چاہے ہیں سو آپ کرے ہیں، ہم کو عبث بدنام کیا مگر یہ اعتراض ایک غیر منطقی اعتراض ہے۔ کیوں کہ خدا کو اگر ہر قسم کا اختیار حاصل ہے تو اُس کو یقیناً یہ بھی اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی مقام پر اپنی قدرت کو محدود کرلے۔ وہ کامل اختیار رکھتے ہوئے عارضی مصلحت کی بنا پر اپنے اختیار کو وقتی طور پر روک لے۔ یہ قیاس بظاہر ایک نظری قیاس ہے، لیکن بلیک ہول کی دریافت نے اس قیاس کے لیے مظہراتی سطح پر ایک عملی تصدیق فراہم کردی۔ بلیک ہول کا نظریہ اس قیاس کو قابل فہم بنا رہا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader