چند مثالیں
Urdu book, p. 134
By Maulana Wahiduddin Khan
ایمسٹرڈم (نیدرلینڈس) میں ماہرین طبیعیات (physicists) کی ایک انٹرنیشنل کانفرنس ہوئی۔ اس موقع پر فزکس کا نوبل پرائز پانے والے ایک سائنس داں مسٹر جیمس واٹسن (James Watson Cronin) نے اپنے مقالے میں بتایا کہ ہماری کائنات کا 96 فی صد حصہ سیاہ مادہ (dark matter) پر مشتمل ہے۔ اُس کی روشنی یا ریڈی ایشن ہم تک نہیں پہنچتا، اس لیے ہم اُس کو براہِ راست طور پر دیکھ نہیں پاتے : Dark matter can not be detected directly, because it does not emit or reflect light or radiation. جیمس واٹسن نے مزید کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم کائنات کو جانتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم ہر چیز کے صرف 4 فی صد حصے کو جان سکتے ہیں : We think we understand the universe, but we only understand four percent of everything. (The Times of India, September 23, 2007, p. 20) 4۔ قرآن خدا کی طرف سے آئی ہوئی ایک محفوظ کتاب ہے۔ قرآن کے آغاز ہی میں یہ آیت شامل ہے: ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَيْبَ فِيْهِ (2:2)۔ یعنی، یہ خدا کی کتاب ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں۔ اس کے ساتھ قرآن کا یہ اعلان تھا کہ وہ ابدی طور پر سارے انسانوں کے لیے کتاب ہدایت ہے۔ وہ کسی زمانے یا کسی مقام کے لیے نہیں ہے، بلکہ ہر دور اور ہر انسانی گروہ کے لیے ہے۔ قرآن کے اس دعوے کی صداقت کے لیے ضروری تھا کہ بعد کے زمانے کے حالات اس کی تصدیق کرتے رہیں۔ بعد کے زمانے میں ایسا کوئی واقعہ پیش نہ آئے جو اس بیان کی تردید کرنے والا ہو۔ قرآن کا یہ بیان حیرت انگیز طور پر اس معیار پر پورا اترا ہے۔ راقم الحروف نے اس موضوع سے متعلق اس کے مختلف پہلوؤں پر کئی مضامین اور کتابیں تیار کی ہیں۔ مثلاً تاریخی پہلو، نفسیاتی پہلو، حیاتیاتی پہلو اور سائنسی پہلو، وغیرہ۔ یہاں اس سلسلے میں صرف ایک مثال نقل کی جاتی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader