چند مثالیں
Urdu book, p. 135
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ یونس میں یہ بتایا گیا تھا کہ پندرہویں صدی قبل مسیح میں خدا نے مصر کے فرعون (Ramesses II) کو سمندر میں غرق کیا۔ کیوں کہ اُس نے خدا کے پیغمبر موسیٰ کا انکار کیا تھا۔ اُس وقت خدا نے کہا تھا کہ ــ آج ہم تمھارے جسم کو محفوظ کر دیں گے ، تا کہ وہ تمھارے بعد آنے والوں کے لیے ایک نشانی بنے: فَالْيَوْمَ نُنَجِّيكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُونَ لِمَنْ خَلْفَكَ آيَةً (10:92) _ یعنی، پس آج ہم تیرے بدن کو بچائیں گے تا کہ تو اپنے بعد والوں کے لیے نشانی بنے۔ ساتویں صدی کے رُبع اوّل میں جب قرآن میں یہ آیت اتری تو اس واقعے پر دو ہزار سال سے زیادہ مدت گزر چکی تھی۔ اُس زمانے میں نہ پرنٹنگ پریس تھا اور نہ کمیونیکیشن، اور نہ معلوم تاریخ میں اس کا کوئی ریکارڈ موجود تھا۔ چنانچہ تمام لوگ اس واقعے کو بھول چکے تھے۔ اُس زمانے میں کوئی بھی شخص نہ اس واقعے کو جانتا تھا اور نہ اِس کو یہ خبر تھی کہ کبھی فرعون کا جسم ظاہر ہو کر قرآن کی اِس آیت کی تصدیق کرنے والا ہے۔ اِس آیت کے نزول کے ہزار سال بعد انیسویں صدی عیسوی کے نصف آخر میں سائنس نے ایسے طریقے دریافت کیے، جن کے ذریعے قدیم اجسام کی تاریخ ٹھیک ٹھیک طور پر معلوم کی جاسکے۔ مزید یہ کہ سائنس کی ترقی نے لوگوں کے اندر بہت بڑے پیمانے پر تجسس کا ذہن پیدا کیا۔ لوگ ہر میدان میں نئی نئی چیزیں دریافت کرنے کے لیے عالمی سطح پر سرگرم ہو گئے۔ اِسی دوران مغربی یورپ کے کچھ اسکالر مصر پہنچے۔ انھوں نے قاہرہ کے قریب واقع أہرام کی تحقیق شروع کی۔ طویل کوشش کے بعد انھوں نے دریافت کیا کہ اہرام کے اندر مصر کے قدیم بادشاہوں کے مردہ اجسام مومیائی حالت میں موجود ہیں۔ چنانچہ خصوصی اہتمام کے ساتھ ان اجسام کو نکالا گیا۔ اِس کے بعد ان اجسام کی جانچ شروع ہوئی۔ سائنس کے جدید طریقوں کے مطابق ، ان کی عمر کا تعین کیا گیا۔ اِس تحقیق کے دوران حیرت انگیز طور پر معلوم ہوا کہ مصر کے قدیم بادشاہ فرعون کی لاش ایک اہرام میں موجود تھی۔ سائنسی تکنیک کے ذریعے جب اس کی عمر کا پتہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ یہ حضرت موسیٰ کا ہم زمانہ شاہ مصر فرعون کا جسم ہے، جس کی بابت قرآن میں 14 سوسال پہلے اعلان کیا گیا تھا کہ وہ محفوظ حالت میں موجود ہے، اور مستقبل میں وہ انسان کے علم میں آ جائے گا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader