چند مثالیں
Urdu book, p. 136
By Maulana Wahiduddin Khan
اس حقیقت کا علم اس سے پہلے کسی بھی انسان کو حاصل نہ تھا۔ قرآن میں اس کا صراحتاً ذکر ہونا، اس بات کا ثبوت ہے کہ قرآن اُس خدا کی کتاب ہے جو ساری باتوں کو جانتا ہے (عالم الغیب والشہادہ)۔ اس نے اپنے علم کے تحت قرآن میں یہ آیت اتاری۔ اس واقعے میں واضح طور پر جدید سائنس، قرآن کے کتاب الہیٰ ہونے کی تصدیق بن گئی۔ فرانس کے ڈاکٹر موریس بکائی (وفات 1998) نے 1975 میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ مصر کا سفر کیا، اور قاہرہ کے میوزیم میں جا کر وہاں براہِ راست طور پر اس محفوظ جسم کا مشاہدہ کیا۔ اس واقعے پر پوری طرح مطمئن ہونے کے بعد انھوں نے اپنی کتاب میں نہایت حیرت کے ساتھ یہ الفاظ درج کیے ہیں ــ وہ لوگ جو مقدس کتابوں کی سچائی کے لیے جدید ثبوت چاہتے ہیں، وہ قاہرہ کے مصری میوزیم میں شاہی ممیوں (Mummies) کے کمرے کو دیکھیں ۔ وہاں وہ قرآن کی اُن آیتوں کی شان دار تصدیق پا لیں گے جو کہ فرعون کے جسم سے بحث کرتی ہیں: Those who seek among modern data for proof of the veracity of the Holy Scriptures, will find a magnificent illustration of verses of the Quran dealing with the Pharaoh’s body by visiting the Royal Mummies Room of the Egyptian Museum, Cairo! 5۔ دین کے عقائد میں سے ایک بنیادی عقیدہ رسالت کا عقیدہ ہے، یعنی یہ عقیدہ کہ انسان کی رہنمائی کے لیے خدا کی طرف سے ہر زمانے میں پیغمبر آئے۔ اس سلسلے کے آخری پیغمبر محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب (صلی اللہ علیہ وسلم) ہیں۔ رسالت کے عقیدے کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی کے رہنما اصول خود اپنی عقل سے دریافت نہیں کر سکتا۔ انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس معاملے میں خدا کے پیغمبروں پر یقین کرے اور اُن سے اپنے لیے رہنمائی حاصل کرے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نہ صرف خدا کے آخری پیغمبر ہیں، بلکہ آپ پر جو خدا کی ہدایت آئی، وہ اپنی کامل شکل میں اور اپنی اصل حالت میں پوری طرح محفوظ ہے۔ پیغمبر اسلام پر جو پہلی وحی اتری تھی، وہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader