Urdu book · اظہارِ دین

چند مثالیں

Urdu book, p. 137

By Maulana Wahiduddin Khan

سورۃ العلق کی صورت میں قرآن میں موجود ہے۔ اس ابتدائی وحی میں اللہ تعالیٰ نے کہا تھا کہ: اِقْرَاْ وَرَبُّكَ الْاَكْرَمُ، الَّذِيْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ، عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمُ (96:3-5)۔ یعنی، پڑھو، اور تیرا رب بڑا کریم ہے جس نے علم سکھایا قلم سے۔ انسان کو اُس چیز کا علم دیا جس کا علم اُس کو نہ تھا۔ اس آیت میں گویا کہ اس بات کا اعلان ہے کہ انسان خود سے اپنی رہنمائی وضع نہیں کر سکتا۔ دنیوی زندگی کے شعبے مثلاً زراعت، باغبانی اور انجینئرنگ، وغیرہ کے معاملے میں وہ اپنے تجربات کے ذریعے کچھ علم حاصل کر سکتا ہے، جو انسان کی موجودہ زندگی کی ضرورتوں سے متعلق ہیں۔ لیکن انسان کی ابدی رہنمائی کے لیے جو برتر علم درکار ہے، اُس کو انسان خود سے حاصل نہیں کر سکتا۔ زندگی کے اس برتر شعبے میں اُس کے لیے پیغمبرانہ رہنمائی سے مدد لینا ضروری ہے۔ قدیم زمانے میں جو بڑے بڑے فلسفی پیدا ہوئے، اُن سب کا موضوع یہی تھا کہ انسانی زندگی کے لیے رہنماسانہ اصول دریافت کیے جائیں، لیکن کئی ہزار سال تک بڑے بڑے دماغوں کی کوششوں کے باوجود فلسفہ اس قسم کی کسی رہنمائی کو دریافت نہ کر سکا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ فلسفیانہ کاوشوں نے انسان کو جو چیز دی، وہ صرف کنفیوژن (confusion) تھا، نہ کہ کوئی یقینی رہنمائی۔ کارل مارکس (وفات 1883) نے فلسفے کی ناکامی پر ایک کتاب لکھی جس کا نام یہ تھا— فلسفے کا افلاس (Poverty of Philosophy)۔ یہ کتاب کارل مارکس نے اپنے مخصوص نقطۂ نظر کے اعتبار سے لکھی تھی، لیکن عمومی اعتبار سے بھی یہ درست ہے کہ فلسفیانہ غور وفکر، جو تمام تر عقل کی بنیاد پر ہوتا ہے، وہ انسان کو رہنمائی کے ابدی اصول دینے کے معاملے میں پوری طرح ناکام ہے۔ فلسفیانہ شعبے کی یہی ناکامی تھی جس کی بنا پر ایسا ہوا کہ موجودہ سائنس کے ظہور کے بعد فلسفے کا دَور ختم ہو گیا۔ اب فلسفے کی حیثیت زیادہ تر ایک تاریخی شعبے کی ہے، نہ کہ زندہ شعبۂ علم کی۔ یہی معاملہ باطنيت (mysticism) کے ساتھ پیش آیا۔ باطنی نقطۂ نظر کے حاملین کا خیال تھا کہ وہ باطنيت کے تجربے کے ذریعے سچائی کو دریافت کر سکتے ہیں، مگر ایسا نہ ہو سکا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page