چند مثالیں
Urdu book, p. 138
By Maulana Wahiduddin Khan
باطنیت کیا ہے، اس کی تعریف اس طرح کی جاتی ہے: Mysticism: The doctrine that it is possible to attain the higher truth through contemplation and love without the medium of human reason, or without any other external source. مسٹی سزم کی تاریخ کئی ہزار سال تک پھیلی ہوئی ہے۔ بے شمار لوگوں نے مسٹی سزم کے ذریعے سچائی کو پانا چاہا، لیکن لمبے تجربے کے بعد معلوم ہوا کہ مسٹی سزم کے ذریعے آخری چیز جو انسان کو ملتی ہے، وہ صرف ایک ہے اور وہ وجد (ecstasy) ہے۔ مگر سچائی کے معاملے میں وجد کی کوئی حقیقت نہیں۔ انسان کے وجود میں سب سے بڑی چیز شعور یا ذہن ہے۔ اس لیے سچائی کو پانے والا وہی شخص ہے جو ذہن یا شعور کی سطح پر سچائی کو پائے، نہ کہ وجد کی سطح پر۔ وجد دراصل بے شعوری کی ایک حالت ہے جس کو بے خودی کے خوب صورت لفظ میں بیان کیا جاتا ہے۔ سچائی دراصل شعور کی سطح پر حقیقتِ اعلیٰ کی دریافت کا نام ہے۔ شعور کی سطح پر حقیقتِ اعلیٰ کی دریافت کی ایک مادی مثال بجلی کے بلب اور پاور ہاؤس میں ملتی ہے۔ بلب ابتدائی حالت میں ایک بے نور شے ہے۔ اس کے اندر نہ خود روشنی ہے اور نہ وہ دوسروں کو روشنی دینے کی صلاحیت رکھتا ہے، لیکن جب پاور ہاؤس سے اس کا کنکشن قائم ہو جاتا ہے تو اچانک وہ ایک روشن وجود بن جاتا ہے۔ اب وہ خود بھی روشن ہوتا ہے اور دوسروں کو روشنی دینے کی صلاحیت کا مالک بن جاتا ہے۔ سچائی کو پانے کا معیار کیا ہے، وہ اس مادی واقعے سے معلوم ہوتا ہے۔ سچائی کو پانا شعوری معنوں میں ایک روشنی کو پانا ہے۔ مسٹی سزم اس معیار پر پورا نہیں اترتا۔ مسٹی سزم سے آدمی کو جو چیز ملتی ہے، وہ صرف بے شعوری ہے، نہ کہ شعور۔ اور انسان جیسی باشعور ہستی کے لیے بے شعوری کبھی حقیقتِ اعلیٰ کی دریافت کے ہم معنی نہیں بن سکتی۔ اس معاملے میں آخری چیز جس کا نام لیا جاسکتا ہے، وہ سائنس ہے۔ جدید سائنس نے بلاشبہ انسان کو بہت سی چیزیں دی ہیں۔ مثلاً ٹیلی کمیونیکیشن اور کنزمریوم گڈس (consumer goods) وغیرہ۔ مگر جہاں تک سچائی کا معاملہ ہے، سائنس نے خود ہی یہ اعلان کر دیا ہے کہ سچائی کی دریافت اس کا میدانِ عمل نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader