Urdu book · اظہارِ دین

حیاتیاتی ارتقا کا نظریہ

Urdu book, p. 144

By Maulana Wahiduddin Khan

رہتا ہے کہ ان گنت تبدیلیوں (countless changes) کے اس عمل کے لیے جو بے حدیبی مدت درکار ہے، موجودہ سیارہ ارض پر ان کا وقوع میں آنا ممکن نہیں۔ کیوں کہ سیارہ ارض کی عمر معلوم طور پر اس سے بہت زیادہ کم ہے جو کہ ان مفروضہ تبدیلیوں کے لیے درکار ہے۔ اس "تحقیق" میں ارتقائی عمل کے لیے درکار مطلوب مدت کے مسئلے کو اس طرح حل کیا گیا ہے کہ یہ فرض کر لیا گیا کہ حیاتیاتی ارتقا بذریعہ انفجار (explosion) پیش آیا ہے۔ محققین نے اس معاملے کو آتش فشانی انشقاق (volcanic eruption) پر قیاس کیا ہے۔ اُن کا ماننا ہے کہ جس طرح ایک آتش فشانی پہاڑ اچانک پھٹتا ہے اور اس کے اندر سے لاوا (lava) کی صورت میں ایک نئی چیز نکل آتی ہے، اِسی طرح انفجار کے ذریعے زندگی کی مختلف صورتیں ایک کے بعد ایک نکلتی چلی گئیں۔ اس ارتقائی انشقاق (evolutionary eruption) کا مطلب یہ ہے کہ واحد الخلیہ نوع میں انشقاق ہوا، اس کے بعد اچانک کثیر الخلیہ نوع وجود میں آگئی۔ مچھلی کے اندر انشقاق ہوا، اس کے بعد اچانک چڑیا وجود میں آگئی۔ بکری کے اندر انشقاق ہوا، اس کے بعد اچانک زرافہ وجود میں آگیا۔ بلی کے اندر انشقاق ہوا، اس کے بعد اچانک شیر وجود میں آگیا۔ بندر کے اندر انشقاق ہوا، اس کے بعد اچانک انسان وجود میں آگیا، وغیرہ۔ انشقاق (eruption) کا یہ نظریہ کسی حقیقی سائنسی دریافت پر مبنی نہیں ہے۔ وہ دوبارہ اُسی طرح غیر متعلق قیاسات (irrelevant suppositions) پر مبنی ہے، جیسا کہ ڈارون نے اِسی طرح کے غیر متعلق قیاسات پر بنار رکھتے ہوئے ابتدائی طور پر اپنا نظریہ ارتقا وضع کیا تھا۔ نظریہ ارتقا میں بے شمار قسم کی گم شدہ کڑیاں (missing links) موجود تھیں، تاہم ان گم شدہ کڑیوں کو قیاسی طور پر فرض کرتے ہوئے ارتقا کا نظریہ تسلیم کر لیا گیا۔ یہی معاملہ جدید تحقیق کا بھی ہے۔ اس تحقیق میں بھی بے شمار قسم کی نامعلوم کڑیاں ہیں، لیکن ان نامعلوم کڑیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے محض قیاس کی بنیاد پر یہ جدید نظریہ وضع کر لیا گیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page