Urdu book · اظہارِ دین

حیاتیاتی ارتقا کا نظریہ

Urdu book, p. 145

By Maulana Wahiduddin Khan

ارتقا کا نظریہ یہ فرض کرتا ہے کہ انواع حیات میں مسلسل تغیرات ہوتے ہیں۔ یہ تغیرات ماحول کے تعامل سے وجود میں آتے ہیں، یا آتے ہیں۔ اس ارتقائی اصول کو موافقت (adaptation) کہا جاتا ہے۔ یہ فرض کر لیا گیا ہے کہ اس موافقت کے نتیجے میں جو تغیرات پیش آتے ہیں، وہ نسل در نسل جمع ہوتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ ایک نوع دوسری نوع میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ موافقت (adaptation) کے اس مفروضہ نظریے کے حق میں کوئی دلیل یا مثال موجود نہیں۔ البتہ کچھ غیر متعلق مثالیں پیش کی جاتی ہیں، مگر یہ مثالیں مغالطے سے زیادہ اور کچھ نہیں ۔ ایک مشہور مثال پتنگا (moth) کی ہے۔ مشاہدے سے معلوم ہوا کہ جو پتنگے سبز درختوں اور پودوں کے درمیان رہتے ہیں، وہ ہرے (green) ہوجاتے ہیں، اور جو پتنگے پتھریلے علاقوں میں رہتے ہیں، اُن کا رنگ پتھریلا رنگ بن جاتا ہے۔ اِس مثال سے ارتقا کا دعویٰ ثابت نہیں ہوتا۔ زیادہ سے زیادہ جو چیز اس سے ثابت ہوتی ہے، وہ یہ کہ خارجی ماحول ظاہری رنگ پر اثر انداز ہوتا ہے، جیسا کہ سرد ممالک میں رہنے والے لوگ اکثر سفید فام ہوتے ہیں اور گرم ممالک میں رہنے والے لوگ اکثر سیاہ فام ۔ مگر نظریہ ارتقا کے ضمن میں جو اصل بحث ہے، وہ جسم کے خارجی رنگ (colour) میں تبدیلی کی نہیں ہے، بلکہ نوع (species) میں تبدیلی کی ہے، اور پتنگے کی مثال سے نوع میں تبدیلی کا اصول ثابت نہیں ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ حیاتیاتی ارتقا کا نظریہ 1859 میں بھی ایک غیر سائنسی نظریہ تھا، جب کہ چارلس ڈارون کی کتاب اصل انواع (The Origin of Species) پہلی بار چھپی اور 2009 میں بھی وہ اتنا ہی غیر سائنسی ہے، جب کہ امریکی جنرل نیچر (Nature) میں کچھ امریکی پروفیسروں کے ”نتائج تحقیق“ شائع ہوئے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ حیاتیاتی ارتقا کے نظریے کو موجودہ زمانے کے تعلیم یافتہ طبقے میں عمومی قبولیت (general acceptance) حاصل ہو چکا ہے، مگر واقعات بتاتے ہیں کہ اس نظریے کی یہ قبولیت اس لیے نہیں ہوئی ہے کہ سائنسی طور پر وہ ثابت ہو گیا ہے۔ اس کا سبب یقینی طور پر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page