Urdu book · اظہارِ دین

اظہارِ دین

Urdu book, p. 146

By Maulana Wahiduddin Khan

صرف یہ ہے کہ جدید تعلیم یافتہ طبقہ زندگی کی تشریح خدا کے بغیر کرنا چاہتا ہے۔ جدید طبقے کو یہ نظر آتا ہے کہ نظریۂ ارتقا کی صورت میں اس کو ایک ورک ایبل نظریہ (workable theory) حاصل ہو گیا ہے۔ اس کے سوا کوئی بھی حقیقی علمی نظریہ ارتقا کے حق میں موجود نہیں۔ نظریۂ ارتقا اور مذہب نظریۂ ارتقا کے ابتدائی زمانے میں مسیحی چرچ اُس کا سخت مخالف بن گیا تھا۔ مگر اب غالباً حالات کے دباؤ کے تحت، مسیحی چرچ نے نظریۂ ارتقا کی واقعیت کو تسلیم کر لیا ہے۔ اس سلسلے میں میڈیا میں جو رپورٹیں آئی ہیں، اُن کا ایک حصہ یہاں درج کیا جاتا ہے: The Vatican has admitted that Charles Darwin's theory of evolution should not have been dismissed and claimed it is compatible with the Christian view of creation. According to the Telegraph, Archbishop Gianfranco Ravasi, the head of the pontifical Council for Culture, said while the church had been hostile to Darwin's theory in the past, the idea of evolution could be traced to St Augustine and St Thomas Aquinas. Father Giuseppe Tanzella-Nitti of the Pontifical Santa Croce University in Rome, added that 4th century theologian St Augustine had "never heard the term evolution, but knew that big fish eat smaller fish" and forms of life had been transformed "slowly over time". (The Times of India, New Delhi, February 12, 2009, p. 19) نظریۂ ارتقا کے بارے میں اس قسم کی رائے کا اظہار کچھ مسلم اہل علم نے بھی کیا ہے۔ مثلاً الجزائر کے شیخ ندیم الجسر ( صِلَةُ العِلْمِ بَيْنَ الفَلْسَفَةِ وَالعِلْمِ وَالقُرْآن)، اور پاکستان کے ڈاکٹر محمد رفیع الدین ( قرآن اور علم جدید ) وغیرہ۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ حیاتیاتی ارتقا کا نظریہ خدا کے انکار کے ہم معنی نہیں ہے، کیوں کہ وہ زندگی کو ابتداءِ وجود میں لانے کے لیے خدا کو سبب اول (first cause) کے طور پر مانتا ہے۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اگر زندگی کی مختلف انواع

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page