گاڈ پارٹیکل کیا ہے
Urdu book, p. 155
By Maulana Wahiduddin Khan
particles which make up atoms, would have zipped through the cosmos at the speed of light, unable to join together to form the atoms that make up everything in the universe, from planets to people. Then all creation would be unthinkable. 4 جولائی 2012 کو سائنس دانوں نے ایک دریافت کا اعلان کیا۔ اس کو نیئر ڈسکوری (near discovery) کہا جاتا ہے۔ یہ دراصل ایک سب ایٹمک پارٹیکل (sub-atomic particle) کی دریافت ہے جس کے بارے میں پچھلے تقریباً 50 سال سے رسرچ ہو رہی تھی۔ اسی درمیان 1993 میں ایک امریکی سائنس داں لیان لیڈر مین (Leon Lederman) نے ایک کتاب تیار کی۔ اس کا ٹائٹل اس نے گاڈ ڈیم پارٹیکل (Goddamn Particle) تجویز کیا۔ اُس وقت تک یہ پارٹیکل ایک پراسرار پارٹیکل بنا ہوا تھا۔ لیان لیڈر مین اپنی کتاب میں اس پارٹیکل کا کوئی واضح تصور نہیں دے سکا تھا۔ اس نے جھنجھلاہٹ میں اپنی اس کتاب کا نام ’گاڈ ڈیم پارٹیکل‘ رکھ دیا۔ ’گاڈ ڈیم‘ ایک بگڑا ہوا نام ہے۔ اردو میں کہتے ہیں خدا کی لعنت۔ خراب موسم ہو تو کہا جائے گا، ’گاڈ ڈیم ویدر‘ (Goddamn weather)۔ پبلشر کو کتاب کا یہ نام پسند نہیں آیا۔ اس نے بطور خود ’ڈیم‘ کا لفظ نکال دیا اور کتاب کو ’گاڈ پارٹیکل‘ کے نام سے چھاپ دیا۔ اُس وقت سے عوامی طور پر اس ذرے کو گاڈ پارٹیکل کہا جانے لگا۔ تاہم سائنس دانوں کے نزدیک اس ذرے کا نام ہگز بوزان (Higgs Boson) ہے۔ بوزان کا لفظ دراصل ’بوس‘ کے نام سے لیا گیا ہے۔ ستیندر ناتھ بوس (SN Bose) ایک انڈین سائنس داں تھے۔ ان کی وفات 1974 میں ہوئی۔ انھوں نے 1924 میں ’سب ایٹمک پارٹیکل‘ (behaviour of subatomic particles) کے بارے میں ایک پیپر تیار کیا تھا۔ اس پیپر کو البرٹ آئن سٹائن (وفات 1955) اور دوسرے سائنس دانوں نے بہت پسند کیا تھا۔ اُس وقت سے اس پارٹیکل کا نام بوزان (boson) پڑ گیا ہے۔ اس مخصوص پارٹیکل کو ’بوزان‘ کا نام سب سے پہلے برٹش سائنس داں پال ڈیراک (Paul Dirac) نے دیا تھا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader